عقائد و ایمانیات - ادیان و مذاہب

pakistan

سوال # 164501

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص مارکیٹ تعمیر کرتا ہے لیکن بنانے کے لئے اس شرط پر لوگوں سے لاکھوں روپے پیشگی جمع کرتا ہے کہ اس رقم پر مارکیٹ تعمیر کے بعد کوئی متعین دکان مثلاًایک نمبریا پانچ نمبر کرایہ پر دیں گے البتہ نصف کرایہ پیشگی رقم سے منہا کرے گااور نصف ہر مہینہ جمع کرے گا ۔ مذکورہ بالا صورت میں مارکیٹ سال ڈیڑھ سال بعد تیار ہوگا ، تو یہ سال ڈیڑھ سال مالک مارکیٹ جو لوگوں کے لاکھوں روپے استعمال کرتے ہیں یہ کس چیز کے عوض میں ہیں ؟اور قرض خواہ مقروض کو قرض کی وجہ سے کسی چیز کا پابند کرسکتا ہے ؟

Published on: Sep 17, 2018

جواب # 164501

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1409-1280/D=1/1440



کرایہ داری کا معاملہ تو اس وقت درست اور مکمل ہوگا جب دکان تعمیر ہوچکے گی ابھی تو اس کی حیثیت وعدہ کی ہے، اور جو رقم پیشگی دی گئی ہے اس کی نوعیت قرض کی ہے قرض دینے والا اپنی مرضی اور رضامندی سے رقم دیتا ہے یہ کسی چیز کا عوض نہیں ہوتا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات