Pakistan

سوال # 152711

میرے حیض کے ایام اس رمضان کے ۲۵ روزہ سے شروع ہوں گے جس کی وجہ سے آخر عشرے کی طاق راتوں کو عبادت کے اہتمام کو نہیں کر سکوں گی۔کیا آخری عشرے کے روزے اور عبادات کو پورا کرنے کے لیے ٹیبلیٹ اور دوا سے حیض کو وقتی روک جائز ہے ؟
براہ کرم، کتاب و سنت کی روزشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jun 24, 2017

جواب # 152711

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1072-996/N=9/1438



حیض ،خواتین کے لیے قدرت کے مقرر کردہ نظام کا حصہ ہے اور فطری چیز ہے ، ہر تندرست عورت کو آنا چاہیے، دواوٴں کے ذیعے اس کی روک تھام طبی اعتبار سے نقصان دہ ہے؛ اس لیے روزہ ، نماز اور دیگر عبادات کے جذبہ میں اس قدرتی نظام سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی دواوٴں کے ذریعے اس کی روک تھام کی کوشش کرنی چاہیے؛ لہٰذا ماہ رمضان کے اخیر عشرے میں جب تک آپ کو حیض نہ آئے، آپ نماز، روزہ وغیرہ کریں اور جب حیض آجائے تو آپ اپنی خواہش کے بر عکس خدائی فیصلہ پر راضی رہیں اوردن اور رات میں حسب ہمت وتوفیق نماز، روزہ، تلاوت قرآن پاک کے علاوہ دیگر ذکر واذکار: تسبیحات ، استغفار، درود شریف اور دعاوٴں کا خوب اہتمام کریں، انشاء اللہ اس صورت میں بھی آپ کو اخیر عشرے کی برکات وفضیلت حاصل ہوجائے گی۔



وفي حدیث عائشة عند البخاري: فلما کنا بسرف حضت، فدخل علي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وأنا أبکي، فقال: ”أنفست؟ “، قلت: نعم، قال: ”إن ھذا أمر کتبہ اللہ علی بنات آدم فاقضي ما یقضی الحاج غیر أن لا تطوفي بالبیت“ الحدیث (الجامع الصحیح للإمام البخاري، کتاب الحیض، باب کیف کان بدء الحیض، ۱: ۴۳، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات