Pakistan

سوال # 168344

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسلئے کے بارے میں کہ ایک دائمی مسجد ہے اور اس کے برآمدے میں ایک جگہ مستورات کے نماز کیلئے مختص کیا جائے اور یہ جگہ مسجد کے حدود میں داخل ہے اور اس جگہ پر کئی سالوں سے نماز بھی پڑھی گئی ہو تو اس مستورات کیلئے مختص کی گئی جگہ میں وضوئخانہ اور باتھ روم کی اشد ضرورت ہے ۔ اب اس میں وضوء خانہ اور باتھ روم بنانے کا حکم کیا ہے ؟

Published on: Feb 4, 2019

جواب # 168344

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 560-510/M=05/1440



مستورات کے لئے مسجد میں نماز کی جگہ مختص کرنے کی ضرورت نہیں۔ مستورات کو اپنے گھروں میں نماز پڑھنا چاہئے، یہی اُن کے لئے اولیٰ و افضل ہے۔ برآمدے میں جو جگہ مستورات کے لئے خاص کی گئی ہے اگر وہ جگہ مسجد کے حدود میں داخل ہے تو اُس حصے میں اب وضو خانہ، باتھ روم وغیرہ بنانا جائز نہیں، یہ چیزیں خارج مسجد حصے میں بنائی جاتی ہیں۔ برآمدے والی جگہ کو نماز کے لئے برقرار رکھی جائے اس کی مسجدیت کو باطل کرنا جائز نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات