India

سوال # 168164

ایک مسجد ہے جو مدرسے کے نام سے رجسٹرڈ ہے ، انہوں نے تین فلیٹ کرائے پر لیے ہیں، اسی میں جمعہ ، جماعت ،عیدین، وغیرہ سب کچھ ہوتاہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ مسجد ، مسجد شرعی کے حکم میں ہے یا نہیں؟ مسجد میں نماز وغیرہ ہونے پر تو اشکال نہیں، مگر اعتکاف اس میں درست ہے یا نہیں؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Feb 19, 2019

جواب # 168164

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:495-427/N=6/1440



مسجد شرعی کا وقف ہونا ضروری ہے اور کرایہ کی جگہ، عمارت یا فلیٹ مسجد شرعی نہیں ہوسکتی؛ لہٰذا اس میں اعتکاف بھی درست نہ ہوگا۔



وأما شروطہ فمنھا:…مسجد الجماعة، فیصح فی کل مسجد لہ أذا ن وإقامة ھوالصحیح کذا فی الخلاصة (الفتاوی الھندیة،کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ۱: ۲۱۱، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)، ھو لبث ……ذکر ولو ممیزاً فی مسجد جماعة، ھو ما لہ إمام وموٴذن أدیت فیہ الخمس أو لا،… أو لبث امرأة في مسجد بیتھا…… بنیة، فاللبث ھو الرکن، والکون فی المسجد والنیة من مسلم عاقل طاھر من جنابة وحیض ونفاس شرطان(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ۳: ۴۲۸-۴۳۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ھذا کلہ لبیان الصحة (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات