India

سوال # 152944

ہمارے شہر میں ایک عورت نے مسجد کے لیے زمین وقف کی جہاں مسجد کی سخت ضرورت تھی۔ شہر کی ایک مسجد کے امام وخطیب نے مدرسہ اورمسجد بنانے کے لیے اس عورت سے زمین کا مطالبہ کیا لیکن اس امام پر اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے لوگوں کے زمین حوالے کی۔ ان لوگوں نے اس زمین پر مسجد تعمیر کی جس میں پانچ وقت باجماعت نماز اور جمعہ کی نماز ہوتی ہے۔ بچوں کو پڑھیا جاتا ہے۔ اب مذکورہ امام ضد اور عناد کی وجہ سے لوگوں سے کہتا ہے کہ یہ مسجد ضرار ہے مذکورہ امام کے بارے میں کیا حکم ہے کیا اس کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟

Published on: Jul 4, 2017

جواب # 152944

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 959-933/B=9/1438



وہ مسجد صحیح اور شرعی مسجد ہے یہ مسجد ضرار نہیں ہے۔ آپ لوگ اطمینان کے ساتھ اس میں نماز پڑھتے رہیں، امام صاحب کی بات کی طرف توجہ نہ دیں۔ اگر مسلمانوں کے درمیان فتنہ و فساد پھیلانے کے لیے امام صاحب ایسا کر رہے ہیں تو ان کے پیچھے نماز ہی مکروہ ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات