India

سوال # 149239

مسئلہ در پیش یہ ہے کہ مسجد میں نَل کنکشن لیا گیا ہے جس کا بِل نہیں بھرا جاتا اور نہ ہی اس کا کوٹیشن بھرا گیا ہے جیسے عام لوگوں کے لیے کوٹیشن ہے کہ پہلے اس کا کوٹیشن ۲۰۰۰/ سے ۲۵۰۰/ روپیہ ہے پھر سال میں ایک مرتبہ نَل پٹی نگر پالیکا (Nal patti nagar palika)والے وصول کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مسجد میں اس نَل کے پانی سے وضو کرنا یا وہ پانی پینا جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ اس پر نگر پالیکا کاپیسہ خرچ ہوتا ہے جو عام لوگوں کا ہے، ہمارے یہاں نگر پالیکا ایک مسلم لیڈر کے قبضہ میں ہے جنہیں آپ جانتے ہوں گے ایم ایل سی عبد اللہ خان عرف بابا جانی دُرّانی،ان کے قبضہ میں ہے نگر پالیکا اسی طریقے سے ایسا ہی نَل کنکشن وہاں کے امام کے لیے بھی ہے جو میں ہی ہوں، اس کے علاوہ جس عمارت میں امام کو رہنے کے لیے گھر دیا گیا ہے وہ عمارت بھی نگر پالیکا ہی کی ہے جس میں لائٹ بھی فری ہے۔ اس کا جواب مرحمت فرمائیں، شکریہ !

Published on: Apr 19, 2017

جواب # 149239

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 774-689/sn=7/1438



معلوم نہیں مذکور فی السوال مسلم لیڈر نے مسجد اور امام صاحب کی رہائش گاہ کے لیے ”نل“ کا کنکشن، اسی طرح امام کے لیے بجلی کا کنکشن حسب ضابطہ لیا یا محض ذاتی اثر ورسوخ کی بنا پر خلافِ ضابطہ؟ آپ تحقیق فرمالیں اگر یہ سارے کنکشن باضابطہ ہیں یعنی ”رعایت“ کے کسی اصول پر مبنی ہیں تب تو ان سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر خلافِ ضابطہ محض ذاتی اثر ورسوخ کی بنا پر یہ کنکشن لیے گئے ہیں تو مسجد کے ذمے داران پر ضروری ہے کہ دفتری کارروائی کرکے انھیں باضابطہ بنائیں اور ان کا جو ”بل“ بنتا ہو وہ ادا کریں ورنہ وہ گنہ گار ہوں گے، نیز حقیقت واضح ہوجانے کے باوجود مصلیوں اسی طرح آپ کے لیے ان سے منتفع ہونا کراہت سے خالی نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات