india

سوال # 149208

حضرات مفتیان کرام سے ایک سوال کا جواب مطلوب ہے ، ہمارے شہر کا قبرستان بالکل مین روڈ پر واقع ہے ،اسی قبرستان میں فی الحال تدفین جاری ہے لیکن مین روڈ کی طرف کی جو قبریں ہیں وہ تقریبا 80 .90 سال پرانی ہیں اور اس طرف تدفین بھی نہیں ہوتی ہے ،یہ قبرستان جامع مسجد کی نگرانی میں ہے ، اب مسجد کے ذمہ داران قبرستان میں مین روڈ کی طرف دوکانیں بنانا چاھتے ہیں، اس طرح کہ کسی قبر کو مٹایا نہیں جائیگا بلکہ لوہے کے پائپ کو دو قبروں کے درمیان گاڑ کر اس پرلوہے کی چادر کو ویلڈنگ کردیا جا ئے گا اور دوکان کے نیچے قبر اپنی حالت برقرار رہے گی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ صورت حال میں قبر کو ختم کرکے یا قبر کو باقی رکھ کر اس پر دوکان بنانا جائز ہے یا نہیں؟مفصل مکمل مدلل جواب عنایت فرمائیں۔اس مسئلہ کو لے کر یہاں آپس میں زبردست اختلاف چل رہاہے ، اس لئے جو بھی جواب عنایت فرمائیں باحوالہ ہو۔

Published on: Mar 16, 2017

جواب # 149208

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 730-701/M=6/1438



موقوفہ قبرستان کے حصے میں دوکانیں بنانا جائز نہیں، ایسا کرنا غرض واقف کے خلاف ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات