عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

Qatar

سوال # 291

کیوں تقلید ضروری ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز کو حجة الوداع میں وضاحت سے بیان فرمادیا ہے کہ میں تمہارے لیے قرآن و سنت چھوڑ کرجارہا ہوں، تو صرف قرآن و سنت کی اتباع کرنی چاہیے۔

Published on: Apr 30, 2007

جواب # 291

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 148/ل=147/ل)


 


قرآن وحدیث میں سارے مسائل صراحتاً یا دلالةً آگئے ہیں مگر اس کے باوجود تقلید اس لیے ضروری ہے کہ قرآن و حدیث و سنت میں بعض احکام ایسے ہوتے ہیں جو آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے صراحتاً ثابت ہیں، جن میں بظاہر کوئی تعارض نہیں ہے، اس قسم کے احکام مسائل منصوصہ کہلاتے ہیں، لیکن بعض احکام ایسے ہیں، جن میں کسی قدر ابہام و اجمال ہے اور بعض آیات و احادیث ایسی ہیں جو چند معانی کااحتمال رکھتی ہیں، بعض محکم ہیں بعض متشابہ۔ اور کچھ احکام ایسے ہیں کہ بظاہر قرآن کی کسی دوسری آیت یا دوسری حدیث سے متعارض معلوم ہوتے ہیں اوران کے علاوہ بے شمار ایسے مسائل ہیں جو قرآن و حدیث سے صراحتاً ثابت نہیں، وہاں اجتہاد واستنباط سے کام لینا ہی پڑتا ہے۔ اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ کتاب اللہ اصل الاصول ہے۔ سنت، کتاب اللہ کی شریح ہے۔ اور اجماع امت، بعض سنت کا بیان ہے۔ کتاب و سنت کے احکام کی کوئی نہ کوئی علت ضرور ہوتی ہے، البتہ کبھی وہ علت ظاہر ہوتی ہے اور کبھی مخفی۔ مخفی علتوں کو متعین کرنا بہت دشوار ہے، اس کے لیے بڑی دقت نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔ امت کے بعض اہل اللہ سے اللہ نے یہ خدمت لی جن کی قرآن و حدیث اور مزاج شریعت پر بڑی گہری اور پوری نظر تھی، امت کا سوادِ اعظم سلفاً و خلفاً قرنا بعد قرن ان کی امامت اورجلالت شان کا قائل ہے۔ مخفی علتوں کو متعین کرکے نئے نئے مسائل کے احکام معلوم کرنے کا نام اجتہاد ہے اور علل مطلقہ پر غیر منصوص مسائل کو منطبق کرکے علت مشترکہ کی بنا پر منصوص حکم کو غیر منصوص کے لیے ثابت کرنے کا نام قیاس ہے، پس قیاس کی بنیاد کتاب و سنت اور اجماع امت ہی ہے۔ معلوم ہوا کہ ائمہ کے اجتہادی مسائل فقہ درحقیقت حدیث ہی کا نتیجہ ہیں، حدیث کے مقابل کوئی نئی چیز نہیں ہیں و محطہا أن الفقہ ہو ثمرة الحدیث (شامي: ۱/۱۳۸) اور یہ یعنی متعارض نصوص میں جمع و تطبیق اور نصوص سے علت کا نکالنا اور علل سے احکام کااستنباط واستخراج کرنا ہرایک کے بس کی بات نہیں ہے جب کہ مسائل پر خواہ قدیم ہوں یا جدید شرعاً عمل کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے علماء اورکبار محدثین نے بھی مقلد ہونے کو عار نہیں جانا، بلکہ وہ مقلد تھے اس لیے امت کے قابل اعتبار علمائے دین کا کسی ایک امام کی تقلید پر اجماع ہے خصوصاً اس زمانہ میں جب کہ شریعت پر عمل کرنے کے لیے ہمتیں پست ہیں نفس میں خواہشات کا دخل ہے اور خودرائی کا غلبہ ہے۔ مسند الہند امام اکبر حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی اپنی معرکة الآراء کتاب ?حجة اللہ البالغہ? میں لکھتے ہیں : إن ہذہ المذاہب الأربعة المدونة المحررة قد أجمعت الأمة أو مَنْ یعتد بہ منہا علی جواز تقلیدہا إلی یومنا ہذا وفي ذلک من المصالح ما لا یخفی لاسیما في ہذہ الأیام التي قصرت فیہا الہمم وأشربت النفوس الہوی وأعجب کل ذي رأي برأیہ (حجة اللّٰہ البالغة: ۱/۱۵۳، باب حکایة حال الناس قبل المائة الرابعة وبعدہا. ط مصر) حضرت شاہ صاحب اپنی دوسری کتاب عقد الجید میں فرماتے ہیں: اعلم أن في الأخذ بہذہ المذاہب الأربعة مصلحة عظیمة وفي الإعراض عنہا کلہا مفسدة کبیرة (عقد الجید، ۳۶، باب تاکید الأخذ بمذاہب الأربعة والتشدید في ترکہا والخروج عنہا. ط لاہور) عام آدمی جو کتاب و سنت سے ناآشنا ہو یا عالم ہو مگر جمع تطبیق اوراستنباط و استخراج سے ناواقف ہو جس کا اس زمانہ میں فقدان ہے اس کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی تلقی کے لیے امام کو واسطہ بنانا تقلید کہلاتا ہے، یہ ایسا ہی ہے جس طرح ہم دنیوی معاملات میں ماہرین فن کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، مکان بنوانا ہوتو انجینئر کی خدمات حاصل کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ، ان ائمہ میں سے کسی ایک کی تقلید چھوڑنے سے آدمی نفسانی خواہشات کا تابع ہوجاتا ہے اور گمراہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی ہے اتخذ الناس روٴساً جہالاً فسئلوا فأفتوا بغیر علم فضلوا وأضلوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے اور ان سے مسائل دریافت کریں گے، وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے اس طرح وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (مشکوٰة: ۱/۳۳)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات