عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

India

سوال # 1026

(۱) تقلید کیا ہے اور اس کا کیا حکم ہے؟


(۲) غیر مقلد اور مقلد میں کیا فرق ہے؟

Published on: Jul 16, 2007

جواب # 1026

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى:  735/ج = 735/ج)


 


(۱) تقلید شرعاً واجب ہے کیونکہ غیرمجتہد کے لیے دین پر عمل جو نجات اخروی کے لیے ضروری ہے بغیر تقلید کے مشکل ہے کیونکہ تقلید کہتے ہیں کہ وہ مسائل جن کے بارے میں نصوصِ شرعیہ میں باہم تعارض ہے جسے ہرشخص نہیں دور کرسکتا، یا نصوص شرعیہ میں ایک سے زائد معانی کا احتمال پایا جاتا ہے جن میں سے کسی ایک کی تعیین یا ترجیح پر ہرشخص قادر نہیں، اسی طرح وہ مسائل جن کے بارے میں کوئی صریح نص شرعی نہیں ہے اس لیے ان کا حکم پوری شریعت مدنظر رکھ کر مستنبط کرنا ہے جس پر بھی ہرشخص قادر نہیں۔ ان تین طرح کے مسائل میں ان ائمہ مجتہدین میں کسی کی اتباع و پیروی کرنا جو تعارض دفع کرنے، کسی ایک معنی کی تعیین یا ترجیح اور استنباط مسائل پر قادر ہوں، ایسے ائمہ بہت گذرے ہیں مگر ان میں سے جن کے مذاہب کو تفصیلی طور پر مدون کیا گیا ہے وہ صرف چار ہیں، امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ، اب سے کئی صدی پہلے پوری امت کا اجماع ہوچکا ہے کہ دین کی تبیین و تشریح کے سلسلہ میں ان میں سے کسی ایک کی اتباع و پیروی کرنا ضروری ہے، اور جن لوگوں نے اس سے اختلاف کیا ہے وہ بہت تھوڑے ہیں اور وہ ایسے ہیں کہ ان کا اختلاف اجماع میں اثرانداز نہیں ہوسکتا۔


 

(۲) مقلد (ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید کرنے والا) اہل النست والجماعت سے ہے اور غیر مقلد اہل السنت والجماعت سے خارج اور فرقہٴ ضالہ سے ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات