معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 7794

حلالہ کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے، کیوں کہ میں نے ایک حدیث میں پڑھا ہے کہ حلالہ کرنے اورکروانے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے؟ (۲) اگر تین طلاقیں دی جائیں اوراسی مہینہ کے دوران شوہر رجوع کرلے ․․․․کیا طلاق واقع ہوجائے گی؟ کیوں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور ِ خلافت سے پہلے اکٹھی تین طلاق کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا؟ (۳)حلالہ اور متعہ میں کیا فرق ہے، اگر دونوں میں کچھ وقت کے لیے رشتہ ازدواج مقصود ہو اور اس رشتہ کے بعد میاں اوربیوی ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں؟ از راہ مہربانی جواب دے کر مشکور فرمائیں۔

Published on: Nov 8, 2008

جواب # 7794

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1681/د= 99/ک


 


حدیث مذکور صحیح ہے، جب نکاح میں حلالہ کرنے کی شرط کردی جائے تو وہ نکاح موقت کے مشابہ ہوجاتا ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے، اگر شرط لگاکر نکاح نہ کیا گیا ہو اگر چہ اس کی نیت ہو تو یہ مذموم نہیں ہے۔ لمعات شرح مشکاة میں لکھا ہے المکروہ اشتراط الزوج التحلیل في القول لا في النیعة بل قد قیل إنہ ماجور بالنیة لقصد الإصلاح (حاشیة مشکاة، ص:۲۸۴)


(۲) تین طلاق دینے کے بعد رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے اس لیے اسی مہینہ میں شوہر کا رجوع کرنا درست نہیں، ہے طلاق واقع ہوگئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی تین طلاق تین ہی ہوتی تھی۔ عمدة الأثاث فی حکم الطلاق الثلاث کا مطالعہ فرمائیں۔


(۳) متعہ خاص مدت کے لیے تمتع حاصل کرنے کا معاملہ کیا جائے جو کہ ناجائز وحرام ہے اور حلالہ میں نکاح کے وقت کی تعیین نہیں ہوتی بلکہ نکاح کی دوامی خصوصیت موجود رہتی ہے، کوئیجملہ اس کے منافی نہیں صادر کیا جاتا ہے جب کہ متعہ میں نکاح کی دوامی کیفیت کے خلاف مدت کی تعیین کی جاتی ہے کہ ہم مثلاً ایک ہفتہ ایک ماہ کے لیے تم سے نکاح کردیتے ہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات