معاشرت - طلاق و خلع

pakistan

سوال # 154056

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ماں کی طرح حرام کہے جبکہ اس کی نیت طلاق کی نہ ہو تو شریعت میں اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

Published on: Sep 12, 2017

جواب # 154056

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1363-1312/N=12/1438



حرام کا لفظ دور حاضر کے عرف میں طلاق بائن کے معنی میں صریح ہے اور صریح الفاظ طلاق میں نیت کی ضرورت نہیں ہوتی، بلا نیت بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے؛ اس لیے اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا: تو مجھ پر میری ماں کی طرح حرام ہے تو اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اگرچہ اس کی نیت طلاق کی نہ ہو۔



ومن الألفاظ المستعملة ……علي الحرام فیقع بلا نیة للعرف(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الصریح، ۴: ۴۶۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”فیقع بلا نیة للعرف“:أي: فیکون صریحاً لا کنایة بدلیل عدم اشتراط النیة وإن کان الواقع في لفظ الحرام البائن؛ لأن الصریح قد یقع بہ البائن الخ (رد المحتار)، والحاصل أنہ لما تعورف بہ الطلاق صار معناہ تحریم الزوجة، وتحریمہا لا یکون إلا بالبائن (المصدر السابق، ص ۵۳۱)، قولہ: ”والحاصل أنہ لما تعورف بہ الطلاق الخ“: فعلی ذٰلک یکون التعارف إنما ہو في وقوع الطلاق بدون تعرض لصفتہ فتبقی صفتہ علی ما کانت علیہ قبل التعارف وہي البینونة حیث لم یتعارف خلافھا (تقریرات الرافعي، ۱: ۲۱۸)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات