معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 151117

اگر ہنسی مذاق میں شوہر یا بیوی ایک دوسرے سے ایسے الفاظ بولیں کہ جس سے نکاح ٹوٹ سکتا ہے تو کیا حکم ہے؟ کیا نکاح ٹوٹ جائے گا؟ کوئی بھی بات ہو لیکن مستی مذاق میں بولاہو تو ۔ جیسے بعض اوقات منہ سے بہن نکل جائے یا او میری ماں ، ایسا بول دے یا پھر بیوی کے منہ سے بھائی وغیرہ نکل جائے تو نکاح ٹوٹ جائے گا؟ یا اگر غصے میں یہی سب بول دے تو کیا حکم ہے؟ جیسے غصے میں آواز دے اور کہے تیرا بات بلا رہا ہے، تو کیا حکم ہے؟

Published on: May 11, 2017

جواب # 151117

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 886-863/N=8/1438



(۱): اگر شوہر نے بیوی کو طلاق کا مالک نہیں بنایا تو بیوی کے کچھ بھی کہنے سے نہ نکاح ٹوٹتا ہے اور نہ طلاق واقع ہوتی ہے؛ کیوں کہ شریعت میں طلاق کا حق مرد کو دیا گیا ہے، عورت کو طلاق کا حق نہیں دیا گیا ہے۔



 قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:إنما الطلاق لمن أخذ بالساق (السنن لابن ماجة، کتاب الطلاق، باب طلاق العبد، ص ۱۵۱،ط : المکتبة الأشرفیة دیوبند)،قولہ:”الطلاق لمن أخذ بالساق“: کنایة عن ملک المتعة (رد المحتار، أول کتاب الطلاق ۴: ۴۵۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



اور اگر شوہر نے طلاق کا کوئی لفظ کہا ، مثلاً جا! میں نے تجھے طلاق دیدی تو ہنسی مذاق میں بھی الفاظ طلاق کہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، حدیث میں ہے: تین چیزیں ایسی ہیں، جن میں مذاق بھی حقیقت ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں ایک طلاق کو شمار فرمایا۔



 عن أبي ھریرةرضي الله عنه  قال: قال رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”ثلاث جدھن جد وھزلھن جد، النکاح والطلاق والرجعة“، رواہ الترمذي وأبو داود، وقال الترمذي: ھذا حدیث حسن غریب (مشکاة المصابیح، باب الخلع والطلاق، الفصل الثاني، ص:۲۸۴، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔



اور اگر شوہر نے لا علمی میں کسی ایسے لفظ کو طلاق سمجھا جس سے شرع میں طلاق واقع نہیں ہوتی تو اس پر طلاق کا حکم مرتب نہ ہوگا اگرچہ وہ لفظ طلاق کی نیت سے کہا گیا ہو۔



(۲)بیوی کو ماں، میری ماں، بیٹی اور شوہر کوباپ، بیٹا وغیرہ کہنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا ؛ البتہ میاں بیوی کا آپس میں ایک دوسرے کو اس طرح کے الفاظ کہنا مکروہ ہے ؛ اس لیے آپس میں اس طرح کے الفاظ کہنے سے بچنا چاہیے ۔ او ر میاں بیوی کا آپس میں ایک دوسرے کو مطلق بھائی یا بہن اگرچہ مکروہ نہیں ؛ کیوں کہ اس میں عام طور پر دینی بھائی بہن کے معنی مراد ہوتے ہیں جیسا کہ عرف عام میں بھی لوگ ایک دوسرے کو بھائی یا بہن کہتے ہیں؛ البتہ میاں بیوی اگر اس سے بھی بچیں تو مناسب ہے۔



والذي فی الفتح: وفي أنت أمي لا یکون مظاھراً وینبغي أن یکون مکروھاً فقد صرحوا بأن قولہ لزوجتہ: یا أخیة مکروہ وفیہ حدیث رواہ أبو داود ” أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمع رجلاً یقول لامرأتہ: یا أخیة فکرہ ذلک ونھی عنہ“ ومعنی النھي قربہ من لفظ التشبیہ (رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الظھار، ۵:۱۳۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وقال اللہ تعالی: إنما الموٴمنون إخوة (الحجرات: ۱۰)۔



(۳): غصہ میں بھی میاں بیوی کو آپس میں ایک دوسرے کو اس طرح کے الفاظ نہیں کہنے چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات