عبادات - طہارت

Myanmar

سوال # 3630

(۱) میرا وضو نہیں رہ پاتاہے، اگر میں چاہوں کہ وضو کرکے نماز ادا کروں تو اتنی دیر تک وضو نہیں رہتا ہے، اکثر ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔ جب بھی میں نماز پڑھنا شروع کرتاہوں تو یہ مسئلہ درپیش ہوتاہے، اس لیے نماز کے لیے صف اول میں جانے کی ہمت نہیں ہوتی ہے، چونکہ مجھے دوبارہ وضو کرنا پڑتاہے ۔ یہ دو تین سال سے ہورہاہے۔ براہ کرم، میر ی رہ نما ئی فر مائیں کہ میں اس صورت میں کیا کروں؟  (۲) قرآن کی تلاوت کرتے وقت اگر وضوٹوٹ جاتاہے تو میں کیا کروں؟

Published on: Jan 19, 2008

جواب # 3630

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 958/ د= 915/ د


 


اگر ایک نماز کا پورا وقت ایسا گذرجائے کہ آپ کا وضو اتنی دیر بھی باقی نہ رہ سکے جس میں آپ صرف فرض نماز ادا کرلیں، تب آپ معذور شرعی قرار دیئے جائیں گے اس وقت آپ کو یہ رخصت حاصل ہوگی کہ نماز کا وقت آنے کے بعد وضو کرکے اس وقت میں جتنی فرض اور نفل و سنت چاہیں پڑھ لیں اگرچہ درمیان میں ریاح خارج ہوتی رہے اس خروج ریاح سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ البتہ دوسری نماز کا وقت آنے پر دوبارہ وضو کرنا ضروری ہوگا۔ لیکن پھر جب کبھی ایک نماز ادا کرنے تک ریاح کا خروج نہ ہوگا، تو آپ معذور شرعی ہونے سے نکل جائیں گے یعنی معذور شرعی باقی نہیں رہیں گے۔ اگر آپ معذورِ شرعی نہیں ہیں تو بھی خروج ریاح کی زیادتی کی وجہ سے صف اولیٰ کی پابندی بلکہ ضرورت ہو جماعت کی پابندی ترک کرسکتے ہیں کیونکہ غیرمعذور کے حق میں خروج ریاح ناقض وضو ہوتا ہے اس لیے جب آپ کا وضو ٹوٹے گا تو آپ کو دوبارہ وضو کرکے نماز ادا کرنی ہوگی البتہ آپ پہلی نماز پر بنا کرسکتے ہیں یعنی جس رکن میں وضو ٹوٹا ہے دوبارہ وضو کرکے اُس رکن کو پورا کرتے ہوئے نماز کے اگلے حصہ کی تکمیل کرلیں۔ نیز کھڑے ہوکر خروج ریاح کا زیادہ امکان ہوتا ہے تو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔


(۲) تلاوت کے دوران وضو ٹوٹ جائے اور آپ معذورِ شرعی نہیں ہیں تو قرآن شریف کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے یا تو زبانی جو سورتیں یاد ہیں ان کی تلاوت کریں یا کسی قلم وغیرہ سے کاغذ کو پلٹ لیں اور قرآن شریف کو کسی رومال وغیرہ کے ذریعہ پکڑیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات