عبادات - طہارت

Pakistan

سوال # 2689

بخاری شریف میں دو احادیث ہیں کہ انزال کے بغیرجماع کرنے کے بعد غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور صرف وضو کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں جب کہ فقہ میں ہے کہ صرف دخول ہونے سے غسل ضرورہے۔ براہ کرم، میری رہ نمائیں فرمائیں کہ اس صورت میں کیا کروں؟

Published on: Feb 13, 2008

جواب # 2689

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 59/ ل= 59/ ل


 


فقہ میں جو لکھا ہے کہ محض جماع سے غسل واجب ہوجاتا ہے انزال ہو یا نہ ہو۔ یہی صحیح ہے اور حدیث: ”إنما الماء من الماء“ یعنی غسل انزال سے واجب ہوگا باجماع امت منسوخ ہے۔ لما في الصحیحین من حدیث أبي ھریرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”إذا جلس بین شعبھا الأربع ثم جھدھا فقد وجب الغسل أنزل أو لم ینزل وأما قولہ علیہ الصّلاة والسلام إنما الماء من الماء فمنسوخ بالإجماع وفي حاشیة مسلم: ۱۱/۲۹۶ (۸/۸۱/۳۴۳) وقد عقب الإمام مسلم علی ھذا الحدیث فروی بإسنادہ عن ابن الشخیر قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینسخ حدیثہ بعضہ بعضاً کما ینسخ القرآن بعضہ بعضاً (شامي: ج۱ ص۲۹۹،ط. زکریادیوبند، کتاب الطھارة) اور امام نووی لکھتے ہیں اعلم أنالأمة مجتمعة الآن علی وجوب الغسل بالجماع وإن لم یکن معہ إنزال (مسلم شریف: ج۱ ص۱۵۵)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات