عبادات - طہارت

India

سوال # 176417

میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے پیشاب و منی کا قطرہ آتا ہے اور صورتِ حال یہ ہے کہ ہر وقت جبھی میں استنجا کرتا ہوں ، کافی ٹائم تک قطرہ بندنہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے بیت الخلاء میں کافی وقت بیٹھا رہتا ہوں، لیکن اطمینان حاصل نہیں ہوتا جب بیت الخلاء سے فارغ ہوکر آتا ہوں تو اس کے بعد بھی اطمینان حاصل نہیں ہوتا ہے اور ہر وقت یہی پریشانی رہتی ہے نماز سے کافی وقت پہلے استنجا کرتا ہوں، جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو خوب دیکھ کر نماز پڑھتا ہوں کہ قطرہ تو نہیں آ رہا ہے جب تک کوئی قطرہ نہیں ہوتا لیکن جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتا ہو تو نماز کے کچھ وقت بعد پانی جیسا کچھ نکل رہا ہوتا ہے لیکن مجھے قطرہ نکلنے کا نماز میں کوئی احساس نہیں ہوتا ،نہیں پتہ چلتا ہے ،اب میں شک میں رہتا ہو ں کہ پانی نماز میں نکلا ہے یا نماز کے بعد نکلا ہے ، ہر وقت ٹینشن رہتی ہے اور مجھے امامت بھی کرنی پڑتی ہے اور پیشاب یعنی شرمگاہ کے جو آگے کا حصہ یعنی جو مقام آگے کا ہوتا ہے اس میں زیادہ تر رہتاہے ،ہر وقت کچھ پانی سا لگا رہتا ہے یعنی ہر وقت اس میں کچھ گیلا پن اور تری رہتی ہے کیا یہ تری یہ پانی پاک ہے یہ ناپاک ہے ؟ اور اسی طرح پتہ بھی نہیں چلتا ، کہ پانی نکل جاتا ہے اور مجھے احساس بھی نہیں ہوتا ہے ،ہر وقت یہی پریشانی رہتی ہے ، کبھی دیکھنے پر پانی نظر آ جاتا ہے کبھی نظر نہیں آتا ہے ۔
اب برائے مہربانی بتائیں، اسے میرے نماز کا کیا حکم ہے نماز ہوگی یہ نہیں میں کس طرح پاک رہو ں، کس طرح نماز ادا کرنے کے وقت مجھے ہر وقت یہی پریشانی رہتی ہے اور اس طرح میری امامت کا کیا حکم ہے جب کہ کوئی ایسا نہ ہو جو امامت کر سکے ؟ یعنی ایک شخص ہے اور وہ نماز روزے کا پابند ہے لیکن اُس کی داڑھی سنت کے مطابق نہیں ہے کیا و ہ نماز کی امامت کر سکتا ہے اور کیا جو نماز میں نے اب تک پڑھائی ہے ؟ اُن کے کیا حکم ہے کیا و نماز ادا نہیں ہوئی کیا میں سب نمازیوں مقتدیوں کی نماز خراب کرنے کا ذمہ دار ہو تو کیا سب نمازیوں کی نماز کا اب کیا ہوگا ، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں نے نماز پڑھائی اور کچھ وقت یعنی ۱۰ سے ۲۰ منٹ بعد ٹوائلٹ میں جاکر دیکھا تو قطرہ جا رہا تھا لیکن نماز میں قطرہ جانے کا کوئی احساس نہیں ہوا نہیں نماز میں لگا کہ قطرہ آگیا ہے ، اب میں شک میں پڑ جاتا ہوں کہ یہ نماز میں گیا یہ نماز کے بعد گیا اور کیا میری وجہ سے سب مقتدیوں کا نماز خراب ہو ہے ، اب آپ ہی اس مسئلہ کا حل بتائیں اور ہے پیشاب کی نالی کے مقام پر جو تری رہتی ہے کیا کو لگ بھگ ہر وقت ایسا لگتا ہے کچھ پانی ہے اور کبھی نہیں بھی رہتا ،کیا اب میں شرعی معذور ہوں یا نہیں؟ اس حالت میں میں نماز کیسے پڑھوں اور اب تک جو نماز میں نے پڑھائی اُن کا کیا حکم ہے ؟ اور امامت کا کیا حکم ہے ؟کیا وہی شخص نماز پڑھا سکتا ہے جس کی داڑھی سنت کے مطابق نہیں ہے ۔
براہ کرم ،پورے مسئلے کا حل تفصیل سے بتا کر پریشانی کا حل بتائیں اور رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ

Published on: Feb 17, 2020

جواب # 176417

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 549-146T/SN=06/1441



(۱) آپ پریشان نہ ہوں، محض شک کی بنا پر وضو یا نماز کے خراب ہونے کا حکم نہیں لگتا ہے، پیشاب کے بعد اچھی طرح استبراء کرلیں مثلاً کچھ دیر چل لیں، مٹی کے ڈھیلے یا ٹشو پیپر سے سکھا لیں، کھنکھار لیں، جب اطمینان ہو جائے کہ قطرہ بند ہو گیا ہے تو عضو کو دھوکر وضو کرکے نماز پڑھ لیں، اگر دورانِ نماز پیشاب کے قطرات کے نکلنے کا ظن غالب ہو تب تو وضو اور نماز کے ٹوٹنے کا حکم ہوگا، اگر ظن غالب نہ ہوآپ کی نماز پر کوئی اثر نہ پڑے گا، اگر نماز کے وقت قطرات نہ تھے نیز دورانِ نماز بھی احساس نہیں ہوا تو نماز کے کچھ دیر کے بعد دِکھنے والے قطرات کی وجہ سے پڑھی گئی نمازوں پر کوئی اثر نہ پڑے گا، آپ خوامخواہ شک نہ کریں۔



(۲) شرمگاہ کے اگلے حصے پر جو ”تری“ اگر وہ پیشاب کی ہے تب تو ناپاک ہے، اگر پیشاب کی نہیں ہے؛ بلکہ عضو کو دھونے کے بعد پانی کا جو حصہ لگا رہ جاتا ہے اس کی تری ہے تو ناپاک نہیں ہے۔



(۳) جب تک ظن غالب کے درجے میں وضو کے بعد نماز سے پہلے یا دورانِ نماز، قطرات خارج ہونے کا علم نہ ہو تو ایسی صورت میں آپ کے ذریعے پڑھائی گئی نمازیں درست ہوگئیں؛ البتہ بہتر ہے کہ آپ امامت نہ کریں۔



(۴) ڈاڑھی بڑھانا یعنی یکمشت تک واجب ہے، ڈاڑھی منڈوانا یا یکمشت سے پہلے کٹوانا شرعاً جائز نہیں ہے، یہ باعث فسق ہے اور فاسق کی امامت مکروہ تحریمی ہوتی ہے؛ لہٰذا جو شخص ڈاڑھی منڈواتا ہو یا یکمشت سے پہلے کٹواتا ہو اس کی امامت مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے اگرچہ وہ صوم و صلاة کا پابند ہو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات