عبادات - طہارت

Pakistan

سوال # 175842

میری عمر ۳۴ سال ہے، اورگیس کی شکایت ہے ، میں جب وضو کرتاہوں تو گیس زیادہ ہوتی ہے، دن میں پانچ نمازیں باجماعت ادا کرتا ہوں ، لیکن ہر جماعت میں وضو ٹوٹ جاتاہے اور گیس کنٹرول نہیں ہوتی ، جمعہ کی نماز میں بھی بالکل آخری وقت میں جاتا ہوں، اس مسئلے کی وجہ سے مسجد میں جلدی نہیں جاتا، کیا میں صرف نماز کے اوقات میں اپنی گیس کو روکنے کے لیے پیچھے کی جگہ کچھ رکھ سکتاہوں اور نماز کے بعد نکل لوں؟ ایسا کرنے سے مجھے غسل کرنا ہوگا؟

Published on: Feb 17, 2020

جواب # 175842

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:512-425/sn=6/1441



صورت مسئولہ میں آپ کو غسل تو نہ کرنا ہوگا ؛ لیکن آپ کو اس تکلف کی بھی ضرورت نہیں ہے، اگر آپ کو خروج ریح کا عارضہ مسلسل جاری رہے بایں طور کہ ایک نماز کا وقت اس حال میں گزرجائے کہ اتنا وقفہ بھی نہ ملے کہ وضو کرکے آپ نماز ادا کرسکیں تو آپ ”معذور“کے حکم میں ہیں ،یعنی وقت داخل ہونے پر صرف ایک مرتبہ وضو کرلینا کافی ہوگا، اس وضو سے وقت کے اندر آپ جتنی چاہیں نمازیں باجماعت یا انفراداً پڑھ سکتے ہیں ؛ ہاں اگر کوئی دوسرا ناقضِ وضو پایا جائے گاتو پھر دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ معذور کے حکم میں داخل ہونے کے لیے تو مذکورہ بالا شرط ہے ؛ لیکن دوامِ عذر کے لیے یہ شرط نہیں ہے؛ بلکہ صرف اتنی بات کافی ہے کہ ہر نماز کے وقت ایک مرتبہ یہ عارضہ پایا جائے۔” معذور“ سے متعلق تفصیل بہشتی زیور وغیرہ میں د یکھ لیں ۔ اگر آپ مذکورہ بالا معنی کے مطابق ”معذور شرعی“ نہیں ہیں تو خروج ریح سے وضو ٹوٹ جائے گا؛ اس لیے آپ کوشش کرکے نماز کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کریں کہ آپ کو یہ عارضہ کم رہتا ہو، اگر اس کی وجہ سے کبھی کبھار ترک جماعت کی بھی نوبت آئے تو بھی ان شاء اللہ شرعا آپ پر مؤاخذہ نہ ہوگا ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات