عبادات - طہارت

Pakistan

سوال # 167645

جناب مفتی صاحب دانتوں میں کچھ مسئلہ درپیش ہے جس کا ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اس کو سیدھا کرنا ہوگا، اب اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ دانت کے اوپر کچھ گلو سا لگا کر اس پر ایک لوہے کا چھوٹا سا پیس چپکا دیتے ہیں اور اس میں ایک تار لگا لیتے ہیں جس کو ماہانہ کھسنا ہوتا ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس لوہے کے چھوٹے ٹکڑے اور دانت کے اوپر حصہ میں بلکل خلاء نہیں ہوتا جس میں غسل جنابت کی صورت میں پانی نہیں پہونچ سکتا اس کا کیا حکم ہے ؟

Published on: Jan 24, 2019

جواب # 167645

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:450-439/L=5/1440



اگر علاج و ضرورت کی بنا پر دانتوں میں تار لگوایا جائے اور اس کو بوقت غسل نکالنا دشوار یا مضر ہو تو پھر اس تار کے ساتھ ہی غسل کرنا درست ہوگا۔ (مستفاد فتاوی دارالعلوم: ۱/۱۵۴-۱۵۵)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات