عبادات - طہارت

India

سوال # 167080

استنجاء کے بعد بنا کچھ کئے بغیر منی خارج ہوجاتاہے تو کیا غسل فرض ہوجائے گا نماز پڑھنے کے لیے ؟

Published on: Nov 27, 2018

جواب # 167080

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 337-300/M=3/1440



استنجاء کے بعد عام طور پر نکلنے والا لیس دار مادہ وَدی ہوتا ہے اس سے غسل واجب نہیں ہوتا، اس کو دھوکر (بدن یا کپڑے میں جہاں بھی لگ جائے) پھر وضو کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں اور دیگر نکلنے والا مادہ منی ہوتا ہے تو اگر وہ شہوت کے ساتھ نکلے تب تو غسل واجب ہو جائے گا اور اگر بغیر شہوت کے کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے نکلے تو اس سے غسل واجب نہیں عضو کو دھوکر وضو کرلینا کافی ہے۔ والمعانی الموجبة للغسل إنزال المني علی وجہ الدفق والشہوة۔ (ہدایہ) ینفصل المني لا عن شہوة ویخرج لاعن شہوة ․․․․․․ فلا غسل فیہ عندنا (بدائع)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات