عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 173456

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ہذا کے سلسلہ میں۔ لکھنوٴ میں ایک مسجد ہے جہاں تراویح کا دور مکمل ہونے پر شیرینی تقسیم ہوتی ہے تو اس میں ایک تو مٹھائی ہوتی ہے دوسری بریانی کا ڈبہ اور تیسرے چائے کے ساتھ کھانے والا بسکٹ۔ یہ سب چیزیں لوگ اپنی خوشی سے تقسیم کراتے ہیں اپنے حساب سے۔ دقت یہ ہے کہ دور مکمل ہونے کے بعد امام صاحب کی تقریر ہوتی ہے تقریباً ایک گھنٹہ۔ تو وہ سارے دروازے بند کروا دیتے ہیں اور ایک دروازہ کھلا رکھتے ہیں تاکہ وہاں سے لوگ شیرینی لیتے ہوئے جائیں آسانی ہے۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ جو پوری تقریر سنے بغیر جاتا ہے اس کو حصہ دینے میں تفریق و بھید بھاوٴ کیا جاتا ہے۔ کسی کو مٹھائی ملی تو بریانی نہیں، بریانی ملی تو مٹھائی نہیں۔ اور ہاں جو تقریر سننے سے پہلے جاتا ہے اس کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ امام صاحب کہتے رہتے ہیں جو جانا چاہے جا سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ: ۱۔ کیا تروایح کا دور مکمل ہونے کے بعد شیرینی تقسیم کرنا درست ہے۔ ۲۔ اگر درست ہے تو تین تین طرح کے حصے دینا اسراف میں نہیں آتا۔ ۳۔ حصہ دینے میں تفریق کرنا کیسا ہے۔ ۴۔ اگر تفریق بھید بھاوٴ غلطی سے ہوتی ہے تو اس کو دور کرنے کے لیے ایک ہی طرح کا حصہ نہ دینا چاہئے۔

Published on: Aug 29, 2019

جواب # 173456

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1020-110T/sd=12/1440



(۱تا ۳) تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر شیرینی وغیرہ کی تقسیم فی نفسہ مباح ہے، اگر عمومی چندہ کے بغیر ایک دو افراد ریا و نمود کے بغیر، خلوص کے ساتھ اپنی طرف سے تقسیم کرادیں، تو گنجائش ہے، ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ کوئی خشک چیز ( مٹھائی وغیرہ) تقسیم کردی جائے؛ تاکہ مسجد کا فرش وغیرہ خراب نہ ہو، کئی کئی اشیاء کی تقسیم تکلف سے خالی نہیں اور مسجد کے اندر تقسیم کرنے کے بجائے دروازے پر تقسیم کردیا جائے، جس میں نظم ملحوظ رکھا جائے، شور و غل سے بچا جائے اورحصہ دینے میں مصلیوں کے درمیان تفریق مناسب نہیں ہے، یہ اختلاف و انتشار اور دل شکنی کا سبب بن سکتا ہے اور اگر شیرینی وغیرہ کی تقسیم میں لوگوں کو چندہ دینے پر مجبور کیا جاتا ہو یا اسے لازم اور ضروری سمجھا جاتا ہو تو اس کا ترک کردینا ضروری ہے۔ (مستفاد فتاوی رحیمیہ)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات