عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 171433

میرا سوال یہ ہے کہ رمضان کے روزے جان بوجھ کر چھوڑ دے یا عذر کی وجہ سے نہیں رکھ سکتا تو قضاء لازم ہوگی یا کفارہ واجب ہوگا اور ہر روزہ کی قضاء مسلسل ہے یا منفرد ہے اور قضاء اور کفارہ میں کیا فرق ہے اور ہر روزہ کا کفارہ ایک ہی ہے یا سب الگ الگ ہیں اور قضاء ایک ہی ہے یا الگ الگ مدلل اور مفصل رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jul 7, 2019

جواب # 171433

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1148-977/L=10/1440



جان بوجھ کر رمضان کے روزے نہ رکھنا گناہ کبیرہ ہے ؛البتہ بعض اعذار کی صورت میں ترک کی گنجائش ہے اور بہر صورت چاہے انسان جان بوجھ کر روزہ نہ رکھے یا اعذار کی بناپر نہ رکھے کفارہ کاحکم نہیں ہے بلکہ جتنے روزے رکھنے سے رہ گئے ہوں اتنے روزے رکھ لینا فراغِ ذمہ کے لیے کا فی ہوگا،اور قضا میں تسلسل ضروری نہیں متفرقا بھی قضا روزہ رکھنے کی گنجائش ہے ؛البتہ اگر کسی نے روزہ رکھنے کے بعد بغیر سخت مجبوری یا شرعی اجازت کے روزہ توڑ دیا ہو تو اس پر قضا کے ساتھ کفارہ دینا بھی ضروری ہوتا ہے اور کفارہ یہ ہے کہ آدمی مسلسل ساٹھ روزے رکھے اگر اس کی وسعت نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت کھانا کھلائے۔ اور اگر کسی نے کئی روزے اس طرح توڑ دیے ہوں اور روزہ توڑنا جماع کے علاوہ سے ہو تو ایک کفارہ دیدینا سب کی طرف سے کفایت کرجائے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات