عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 165326

عیدین کے موقع پر عام طور پر دیکھا جاتا ہے ماہرین فلکیات اپنے علم روشنی میں رویت کا امکان بتانا شروع کر دیتے ہیں.اوراتنی شدت سے بیان کرتے ہیں کہ گویا ان کے بیان کردہ امکان میں یقین کی بو آنے لگتی ہے . اور جب رویت ان کے بیان کردہ امکان کے خلاف ہوتی ہے تو اس رویت کو جلدی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے . اور جن عوام اور جہلاء میں ماہرین فلکیات نے اپنا امکان رویت بیان کیا ہے وہ تو مانتی ہی نہیں ہے . اب دریافت طلب امر یہ ہیکہ شریعت میں ماہرین فلکیات کی کیا حیثیت ہے ؟قرآن اور حدیث یا علماء سے ان کے بارے میں کوئی فضیلت منقول ہے یا نہیں؟ماہرین فلکیات کی رائے کی کیا حیثیت ہے ؟چاند کمیٹی کے ممبر کا فلکیات کا ماہر ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ماہر فلکیات کا رویت کا امکان بیان کرنا کہاں تک صحیح ہے ؟ اگر رویت ہو چکی ہوشرعی گواہوں کی روشنی میں اور ماہر اور ماہرین فلکیات علتوں کی روشنی میں اس کا انکار کرے تو کس کی بات معتبر ہوگی؟

Published on: Oct 31, 2018

جواب # 165326

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 46-119/D=2/1440



(۱) عید ورمضان کے چاند کے ثبو ت کے سلسلے میں ماہرین فلکیات کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ ماہرین فلکیات کا قول ظن پر مبنی ہوتا ہے، چنانچہ اگر رویت کی شرعی شہادت نہ ہوئی ہو اور ماہرین فلکیات خبر دیں کہ چاند ہو چکا ہے تو ان کی بات پر فیصلہ کرنا غلط ہے، اور نہ خود اس شخص کے لئے اور نہ اس کی خبر پر دوسروں کے لئے روزہ یا افطار کرنا درست ہوگا، لہٰذا اگر ماہرین فلکیات کی خبر شرعی شہادت سے ٹکراتی ہے تو ا ن کی بات نہیں مانی جائے گی، اور اگر ان کی خبر شرعی شہادت سے نہیں ٹکراتی ہے تو بطور معاون ان کی خبر مانی جاسکتی ہے۔



(۲) اور چاند کمیٹی کے ممبر کا فلکیات کا ماہر ہونا ضروری نہیں ہے۔



(۳) شرعی گواہوں کی بات مانی جائے گی۔ ولا عبرة بقول الموٴقتین ولو عدولاً علی المذہب قال الشامي تحتہ: أی في وجوب الصوم علی الناس، بل في المعراج لایعتبر قولہم بالإجماع ولا یجوز للمنجّم أن یعمل بحساب نفسہ (شامی: ۳/۳۵۴، ط: زکریا دیوبند) جواہر الفقہ: ۳/۴۵۸-۴۶۲، ط: سلمان عثمان اینڈ کمپنی دیوبند ، محمود الفتاوی: ۲/۱۳۰-۱۴۷) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات