عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 173715

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں، کہ ایک مسجد میں ایک قبر ہے اور لوگ اس قبر کو سترہ بنا کر سنت و نفل وغیرہ پڑھتے ہیں، کیا ان کا یہ عمل درست ہے ؟ کیا ان کی نماز ہو جائے گی؟ برائے مہربانی مدلل جواب عنایت فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔ سائل۔

Published on: Oct 20, 2019

جواب # 173715

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:83-72/N=2/1441



اگر قبر دیوار سے گھیر دی گئی تو قبر کی دیوار سترہ بناکر نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں۔ اور اگر صرف قبر ہے اور لوگ اسی کو سترہ بناکر سنن ونوافل وغیرہ پڑھتے ہیں تو یہ مکروہ وممنوع ہے اگرچہ ایک ڈیڑھ فٹ اونچی قبر سترہ ہوسکتی ہے؛ کیوں کہ قبر کی طرف کسی آڑ کے بغیر کھڑے ہوکر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔



ولا بأس بالصلاة فیھا إذا کان فیھا موضع أعد للصلاة ولیس فیہ قبر ولا نجاسة کما فی الخانیة ولا قبلتہ إلی قبر، حلبة (رد المحتار،أول کتاب الصلاة، ۲: ۴۲، ۴۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وفی القھستاني عن جنائز المضمرات: لا تکرہ الصلاة إلی جھة القبر إلا إذا کان بین یدیہ بحیث لو صلی صلاة الخاشعین وقع بصرہ علیہ اھ (حاشیة الطحطاوي علی المراقي، ص ۳۵۷، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات