عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 173714

فجر کی نماز میں امام صاحب نے قنوت نازلہ پڑھی کچھ مقتدی جن کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہاں قنوت نازلہ پڑھی جاتی ہے وہ سجدہ میں چلے گئے کافی دیر سجدہ میں رہنے کے بعد پھر وہ واپس قعدہ میں بیٹھ گئے اس درمیان امام صاحب قنوت نازلہ پڑھتے رہے جب امام صاحب قنوت نازلہ کے بعد سجدہ میں گئے تو ان لوگوں نے بھی جو پہلے ہی سے قعدہ میں تھے امام صاحب کے ساتھ سجدہ کیا اور امام کے ساتھ نماز پوری کی ۔سوال یہ ہے کہ جولوگ امام کے ساتھ قنوت نازلہ میں شریک نہیں ہوئے بلکہ وہ بیٹھے رہے تو ان کی نماز ہوگی یا نہیں۔

Published on: Oct 20, 2019

جواب # 173714

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:82-71/N=2/1441



صورت مسئولہ میں جن مقتدیوں نے امام کے ساتھ قنوت نازلہ میں شرکت نہیں کی، انہوں نے نماز کا کوئی فرض یا رکن ترک نہیں کیا ہے اور نہ ہی امام سے پہلے کوئی رکن ادا کیا ہے۔ اور امام سے پہلے جو سجدہ کیا تھا، وہ بعد میں امام کے ساتھ دوبارہ کرلیا ہے ؛ اس لیے اُن کی بھی نمازیں ہوگئیں۔



وإنما تفسد بمخالفتہ في الفروض (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ۲: ۱۶۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”وإنما تفسد “: أي: الصلاة بمخالفتہ في الفروض، المراد بالمخالفة ھنا عدم المتابعة أصلاً بأنواعھا الثلاثة المارة، والفساد إنما ھو بترک الفرض لا بترک المتابعة لکن أسند إلیھا؛ لأنہ یلزم منھا ترکہ، وخص الفرض؛ لأنہ لا فساد بترک الواجب أو السنة (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات