عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 169064

مسئلہ یہ ہے کہ نماز کی حالت میں منہ پر رومال باندھنا اس طرح کہ ناک تک ڈھک جائے کیا اس طرح نماز پر کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟ رومال بڑا جو عام طور پر علماء کے پاس ہوتا ہے ؟

Published on: Mar 7, 2019

جواب # 169064

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:602-482/sn=6/1440



 منھ پر رومال وغیرہ باندھ کر نماز پڑھنا شرعا مکروہ ہے، نماز کے وقت منھ پر رومال وغیرہ نہ باندھنا چاہئے ۔



یکرہ اشتمال الصماء والاعتجار والتلثم والتنخم وکل عمل قلیل بلا عذر(قولہ والتلثم) وہو تغطیة الأنف والفم فی الصلاة لأنہ یشبہ فعل المجوس حال عبادتہم النیران زیلعی. ونقل ط عن أبی السعود أنہا تحریمیة(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 1/ 423، ط:زکریا)



ویکرہ التلثم وہو تغطیة الأنف والفم فی الصلاة والتثاؤب فإن غلبہ فلیکظم ما استطاع فإن غلبہ وضع یدہ أو کمہ علی فمہ. کذا فی التبیین ویکرہ ترک تغطیة الفم عند التثاؤب. ہکذا فی خزانة الفقہ ثم إذا وضع یدہ یضع ظہر یدہ. کذا فی البحر الرائق ناقلا عن مختارات النوازل.(الفتاوی الہندیة 1/ 107، ط:زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات