• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 167603

    عنوان: نماز میں ہلتے ہوئے قرأت كرنا

    سوال: جناب ایک امام صاحب ہیں میری مسجد کے جو جب نماز پڑھاتے ہیں بہت زیادہ ہلتے ہوئے قرئات کرتے ہیں وہ بولتے ہیں کہ میری عادت ہے ، کیا منتقل درست ہے اگر عادت ہے تو تمام نماز میں ہلنا چاہئے وہ صرف قرئات والی نماز میں ہلتے ہیں، اس کے بارے میں آپ حضرت کیا سوچتے ہیں؟

    جواب نمبر: 167603

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 359-293/D=05/1440

    ارشاد خداوندی ہے وقوموا للہ قانتین یعنی اللہ کے سامنے ادب سے کھڑے رہو (ترجمہ شیخ الہند) اور ارشاد خداوندی ہے قد أفلح الموٴمنون الذین ہم فی صلاتہم خاشعون اس آیت کے تحت حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ معارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ خشوع کے لغوی معنی سکون کے ہیں اصطلاح شرع میں خشوع یہ ہے کہ قلب میں بھی سکون ہو یعنی غیر اللہ کے خیال کو قلب میں بالقصد حاضر نہ کرے اور اعضائے بدن میں بھی سکون ہو کہ عبث اور فضول حرکتیں نہ کرے (نقلاً عن بیان القرآن) اس سے معلوم ہوا کہ صورت مسئولہ میں امام صاحب کا قرأت کرتے وقت ہلنا ادب اور خشوع و خضوع کے خلاف ہے۔ امام صاحب کو چاہئے کہ پوری احتیاط سے سنت کے مطابق نماز پڑھایا کریں خلاف ادب کسی حرکت کو عادت بنالینا اچھی بات نہیں نماز میں اس عادت کو بدلنا چاہئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند