عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 166767

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں ایک شخص مسبوق ہے اس نے قاعدئہ اخیرہ میں صرف تشہد پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ تمام دعائیں پڑھی جو پڑھی جاتی ہے اور بقیہ نماز پوری کر کے سلام پھیر لیا تو کیا اس صورت میں اس کی نماز ہو گئی یا اس پر سجدہ سہو بھی واجب ہوگا وضاحت کے ساتھ بالدلیل جواب پیش کرے ۔

Published on: Nov 19, 2018

جواب # 166767

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 322-285/H=3/1440



امام کے قعدہٴ اخیرہ میں مسبوق اگر تشہد پر اکتفاء نہ کرکے سہواً درود شریف اور دعاء بھی پڑھ لے اور پھر بعد سلام امام اپنی بقیہ نماز پوری کرلے تو نماز درست ہو جاتی ہے اور اِس صورت میں مسبوق پر سجدہٴ سہو واجب نہیں ہوتا کیونکہ تشہد پر اکتفاء کرنا مسبوق پر واجب نہیں پس اس صورت میں کسی واجب کا ترک نہ ہوا اور جب واجب ترک نہ ہوا نہ ہی کوئی اور موجبِ سہو پیش آیا تو سجدہٴ سہو بھی واجب نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات