عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 160431

مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں مسئلہ زید کے بارے میں ۱.زید زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور رکوع اور سجدہ اشارے سے کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟
۲.جعفر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور رکوع اور سجدہ اشارے سے کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟
۳.کچھ لوگ لکڑی کے تخت پر سجدہ کرتے ہیں جس کی اونچائی ۷-۸ انچ ہوتی ہے کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ (اور یہ معزور شخص قیام کی قدرت رکھنے کے باوجود کرسی پر بیٹھ کر یا زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے اسکا کیا حکم ہے ) (قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں )

Published on: Apr 16, 2018

جواب # 160431

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:784-85T/N=7/1439



(۱): اگر زید میں حقیقت میں رکوع، سجدہ سے عاجز ہے اور وہ زمین پر بیٹھ کر اشارے سے ہی نماز پڑھ سکتا ہے تو اس کا زمین پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنا درست ہے، اس کی نماز ہوجائے گی۔



وإن تعذرا لیس تعذرہما شرطا بل تعذر السجود کاف لا القیام أومأ … قاعدا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة المریض ۲:۵۶۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، مستفاد:وھو- أي: الإیماء قاعداً- أفضل من الإیماء قائماً لقربہ من السجود (المصدر السابق، ص ۵۶۸)، قولہ: ”لقربہ من السجود“:أي: فیکون أشبہ بالسجود، منح (رد المحتار)۔



(۲): اگر جعفر حقیقت میں رکوع سجدے سے عاجز ہے اور وہ صرف اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے تو اس کا کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنا جائز ہے؛ البتہ اگر زمین پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے تو یہ افضل ہے۔



وإن تعذرا لیس تعذرہما شرطا بل تعذر السجود کاف لا القیام أومأ … قاعدا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة المریض ۲:۵۶۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، مستفاد:وھو- أي: الإیماء قاعداً- أفضل من الإیماء قائماً لقربہ من السجود (المصدر السابق، ص ۵۶۸)، قولہ: ”لقربہ من السجود“:أي: فیکون أشبہ بالسجود، منح (رد المحتار)۔



(۳): اگر یہ معذور لوگ کسی طرح حقیقی رکوع سجدے پر قادر ہیں تو ان کا کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنا جائز نہیں اگرچہ وہ ۷، ۸/ انچ اونچی تپائی یا تختے وغیرہ پر سجدہ کریں۔ اور اگر یہ حقیقت میں رکوع سجدے سے عاجز ہیں، یعنی: کسی طرح بھی وہ رکوع سجدے کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتے تو ان کا کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنا جائز ہے اگرچہ وہ قیام پر قادر ہوں؛ کیوں کہ جو شخص رکوع سجدے سے عاجز ہو، اس کے ذمہ سے قیام ساقط ہوجاتا ہے اگرچہ وہ قیام پر قادر ہو، احنافکے نزدیک راجح اور مفتی بہ قول یہی ہے جیسا کہ متعدد کتب فقہ میں اس کی صراحت آئی ہے : چند حوالہ جات حسب ذیل ہیں:



الف: کتاب الأصل المعروف بالمبسوط للشیبانی(کتاب الطھارة والصلاة، باب صلاة المریض فی الفریضة ۱: ۲۰۷مطبوعہ:عالم الکتب)میں ہے:قلت:فإن صلی وکان یستطیع أن یقوم ولا یستطیع أن یسجد؟ قال: یصلي قاعداً یومي إیماء ۔ قلت: فإن صلی قائماً یوٴمی إیماء؟ قال: یجزیہ۔



ب:۔مبسوط سرخسی(کتاب الصلاة،باب صلاة المریض۱: ۲۱۳مطبوعہ:دار المعرفة بیروت، لبنان) میں ہے:وأما إذا کان قادراً علی القیام وعاجزاً عن الرکوع والسجود فإنہ یصلی قاعداً بإیماؤسقط عنہ القیام؛ لأن ھذا القیام لیس برکن؛ لأن القیام إنما شرع لافتتاح الرکوع والسجود بہ فکل قیام لا یعقبہ سجود لا یکون رکناً، ولأن الإیماء إنما شرع للتشبہ بمن یرکع ویسجد، والتشبہ بالقعود أکثر، ولھذا قلنا بأن الموٴمیٴ یجعل السجود أخفض من رکوعہ؛ لأن ذلک أشبہ بالسجود، إلا أن بشراً یقول : إنما سقط عنہ بالمرض ما کان عاجزاً عن إتیانہ، فأما فیما ھو قادر علیہ لا یسقط عنہ ولکن الانفصال عنہ علی ما بینا۔



ج:۔الاختیار لتعلیل المختار (کتاب الصلاة، باب صلاة المریض۱: ۱۰۳مطبوعہ : دار الرسالة العالمیة) میں ہے:قال:( فإن عجز عن الرکوع والسجود وقدر علی القیام أومأ قاعداً ) ؛لأن فرضیة القیام لأجل الرکوع والسجود؛لأن نھایة الخشوع والخضوع فیھما، ولھذا شرع السجود بدون القیام کسجدة التلاوة والسھو، ولم یشرع القیام وحدہ، وإذا سقط ما ھو الأصل في شرعیة القیام سقط القیام، ولو صلی قائما موٴمیا جاز، والأول أفضل؛لأنہ أشبہ بالسجود۔



د:۔ رد المحتار(کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، مطلب بحث القیام،۲: ۱۳۲، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)میں ہے:قولہ: ( فلو قدر علیہ) أي: علی القیام وحدہ أو مع الرکوع کما فی المنیة ۔ قولہ: (ندب إیماوٴہ قاعداً ) أي: لقربہ من السجود ، وجاز إیماوٴہ قائماً کما فی البحر، وأوجب الثاني زفر والأئمة الثلاثة ؛ لأن القیام رکن، فلا یترک مع القدرة علیہ۔ ولنا أن القیام وسیلة إلی السجود للخرور، والسجود أصل ؛لأنہ شرع عبادة بلا قیام کسجدة التلاوة، والقیام لم یشرع عبادة وحدہ، حتی لو سجد لغیر اللہ تعالی یکفر بہ بخلاف القیام۔ وإذا عجز عن الأصل سقطت الوسیلة کالوضوء مع الصلاة والسعي مع الجمعة۔ وما أوردہ ابن الھمام أجاب عنہ في شرح المنیة الخ



اور ایسا شخص کرسی پر بیٹھ کرسجدے کے لیے صرف اشارہ کرے گا، اسے ۷، ۸/ انچ کی تپائی یا تختے پر سجدہ کرنے کی ضرورت نہیں؛ البتہ سجدہ کا اشارہ رکوع سے کچھ زیادہ کرے۔



 ویجعل سجودہ أخفض من رکوعہ لزوماً (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة المریض، ۲:۵۶۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”ویجعل سجودہ أخفض الخ“: أشار إلی أنہ یکفیہ أدنی الانحناء عن الرکوع وأنہ لا یلزمہ تقریب جبھتہ من الأرض بأقصی ما یمکنہ کما بسطہ فی البحر عن الزاھدي (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات