عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 149920

اکیلے فرض نماز پڑھنے کے لیے تکبیر کہنا ضروری ہے یا نہیں؟

Published on: Mar 12, 2017

جواب # 149920

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 510-500/B=6/1438



اگر اکیلے فرض نماز پڑھنے والا مسافر (آبادی سے دور جہاں مسجد کی اذان کی آواز نہ پہنچتی ہو) ہوتو اُسے اذان و اقامت دونوں کہنے چاہئے، دونوں کو چھوڑنا مکروہ ہے البتہ صرف اقامت پر اکتفاء کرسکتا ہے اور اگر وہ مقیم ہو اور مسجد میں نماز ادا کرنا چاہتا ہو تو اذان و اقامت کے بغیر ہی نماز ادا کرے، اور اگر اپنے گھر ادا کرنا چاہتا ہوتو اذان و اقامت کے بغیر پڑھنے کی گنجائش ہے لیکن دونوں کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے تاکہ جماعت کی ہیئت پر اس کی نماز ادا ہو: ”وکرہ ترکہما للمسافر لالمصل في بیتہ في المصر“اي لایکرہ ترکہما لہ والفرق بینہما أن المقیم إذا صلی بدونہما حقیقة فقد صلی بہما حکماً، لأن الموٴذن نائب عن أہل المحلة فیہما فیکون فعلہ کفعلہم، أما المسافر فقد صلی بدونہما حقیقة وحکماً، لأن المکان الذي ہو فیہ لم یوٴذن فیہ أصلا لتلک الصلاة (البحر الرائق: ۱/۴۶۱، زکریا) ”وندبا لہما“ اي الأذان والإقامة للمسافر والمصلي في بیتہ في المصر لیکون الأداء علی ہیئة الجماعة (المصدر السابق)۔



وعن سلمان الفارسي قال: قال رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - إذا کان الرجل بأرض قئ فحانت الصلاة فلیتوضأ فإن لم یجد ماءً فلیتیم ، فإن أقام صلی معہ ملکاہ، وإن أذن و أقام صلی خلفہ من جنود اللہ مالایری طرفاہ، رواہ عبد الرزاق، (بحر: ۱/۴۶۱، زکریا) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات