معاشرت - اخلاق و آداب

India

سوال # 170989

آج سے تقریباً ۱۰-۸ سال پہلے میں اور میرے امّی ابّا ممبئی میں تھے اس وقت میں اپنے ابّا کو فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے سونے و بولر تھے کی آج بند کرو ابھی اجاونگا میں انکی یہ بات سن کر سماج گیا کی وہ کسی غیر محرم سے بات کر رہے ہیں پھر جب میں و نومبر پر فون لگایا ٹوں کسی عورت نے فون تھائی میں بہت گھبرا گیا تھا چھوٹا تھا سمجھ نہیں آیا کیا کرو فر جب معائنے اپنے ابّا سے پوچھا کے و نومبر جس کے بارے میں تو انہوں بول کی ڈاکٹر کا نومبر ہے اب جب میں بڑا ہوگیا ہو تو مجھے و بات یاد کرکے بہت پریشانی ہوتی ہے میں اپنی امی کے لیے بھلا چاہتا ہو اور میکو اپنے ابّا سے بات کرنے کا بھی دل نہیں ہوتا میری نظر میں و اس وقت جھوٹ بول اور اُنہونے ایک بہت بڑا دھوکہ دیا وہ کہیں بار میرے پوچھتے کہ میں روم میں آتا تو تو کو چلا جاتا اور ایسے بات کیو کررہا میں کیا کرو سماج نہیں آتا شریعت میں ایسے وقت پر کیا حکم ہے؟

Published on: Jun 27, 2019

جواب # 170989

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1104-957/L=10/1440



آپ والد صاحب کے ساتھ بدگمانی نہ رکھیں بلکہ ان کے ساتھ احسان وہمدردی کا معاملہ کرتے رہیں اور اگر کبھی ان کو کوئی غلط کام کرتے دیکھیں تو ان کی ہدایت کے لیے دعا کرتے رہیں یا حکمت ونرمی سے ان کو سمجھا دیا کریں ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات