معاشرت - اخلاق و آداب

India

سوال # 170764

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان دین شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ دو بہنیں اپنی سگی ماں کو گالیاں دیتی ہیں بحث و تکرار کرتی ہے اپنی ماں کو عورت سے مخاطب کرتی ہے صرف اس بنیاد پر کہ اس کی ماں بڑی بیٹی پر زیادہ شفقت کا برتاؤ کرتی ہے تو ان دو بہنوں کا خیال یہ ہے کہ وہ ماں ماں کہلانے کی مستحق ہی نہیں کہ وہ سب بیٹیوں کے ساتھ ایک جیسابرتاؤ نہیں کرتی ہم دو بہنوں پر ظلم کرتی ہے لہٰذا ہمارے لئے اب ماں کی نافرمانی جائز ہے ہم ماں کو گالیاں بھی دے سکتی ہے بحث ومباحثہ بھی کر سکتی ہے مزید برآں وہ یہ گمان کر رہی ہے کہ ہم جو کچھ بھی کررہی ہیں وہ حق ہے سچ ہے انصاف ہے اور ماں کھلی ہوئی گمراہی میں ہے اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جب انہیں کوئی سمجھآتا ہے کہ ماں کے بھی کچھ حقوق ہیں ان کے ساتھ ایسا برتاو نہ کروں تو ایک بہن کہتی ہے کہ میں یہ سب کچھ اپنی ماں کو جہنم سے بچانے کے لئے کر رہی ہوں ان دو بیٹیوں سے ماں بہت بیزار ہو چکی ہے اور ان کے حق میں کثرت سے بد دعائیں بھی دے رہی ہے کیا اللہ تعالی نے بیٹی کو ایسا حق دیا ہے کہ وہ ماں کی اصلاح اس طریقہء کار سے کریں براہ کرم قرآن وسنت کے روشنی میں اپنا موقف واضح کرے کہ کون حقیقی گمراہی میں مبتلا ہے اور ماں کی نافرمانی کے نقصانات بھی ۔ براہ کرم واضح کریں تاکہ ان کو دارالعلوم کا موقف سنا سکے عین نوازش ہوگی اللہ توفیق عمل نصیب فرمائے آمین۔

Published on: Jul 13, 2019

جواب # 170764

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:850-727/sd=11/1440



سوال میں ماں کے ساتھ بیٹیوں کے سلوک کی جو تفصیلات لکھی گئی ہیں، اگر وہ صحیح اور واقع کے مطابق ہیں، تو بہت ہی افسوس ناک اور لائق مذمت ہیں، محض اس بناء پر کی والدہ بڑی بیٹی کے ساتھ زیادہ شفقت کا معاملہ کرتی ہیں، دوسری بیٹیوں کا والدہ کو گالیاں دینا، بر ملا برا بھلا کہنا، اُن کی شان میں گستاخیاں کرنا شریعت کی رو سے ہر گز جائز نہیں ہے، بیٹیوں کو اس سے باز آنا چاہیے اور والدہ کی بد دعا سے بچنا چاہیے اور اب تک جو کچھ بے ادبی اور نازیبا حرکت کی ہے، والدہ سے صدق دل سے معافی مانگنی چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات