معاشرت - اخلاق و آداب

سوال # 169055

گرمی کے دنوں میں پھنکے کی ہوا نہ آنے پر قبلہ کی طرف پھیر کرکے سو جائیں تو کیا ہم گنہگار ہوں گے ؟ کیا شرعا اس کی گنجائش ہے ؟

Published on: May 2, 2019

جواب # 169055

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:600-682/sn=8/1440



قبلہ کی طرف پاؤں کرنا شرعا مکروہ ہے؛ اس لئے صورت مسؤولہ میں قبلہ کی طرف پاؤں کرکے نہیں سونا چاہیے اور مذکور فی السوال وجہ رفع کراہت کے لئے کافی نہیں ہے۔



(وکذا یکرہ) ہذہ تعم التحریمیة والتنزیہیة (للمرأة إمساک صغیر لبول أو غائط نحو القبلة) وکذا مد رجلہ إلیہا



.... (قولہ: وکذا مد رجلہ) ہی کراہة تنزیہیة ط، لکن قال الرحمتی: سیأتی فی کتاب الشہادات أنہ بمد الرجل إلیہا ترد شہادتہ، وہذا یقتضی التحریم فلیحرر. اہ. (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار۱/۵۲) ط:زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات