معاشرت - اخلاق و آداب

New Zealand

سوال # 167658

کیا سلام کا جواب دینے والے کو باآواز دینا ہے یا آ ہستہ کرنا درست ہے ؟ مکمل اور مفصل بیان فرمائیں۔ اور کیا امام محمد بن سلیمان سجستانی کا سلام کا واقعہ درست ہے اور کیا ہے ؟ کشتی پر جواب دینے والا۔

Published on: Jan 30, 2019

جواب # 167658

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:415-374/N=5/1440



(۱): جی ہاں! عام حالات میں سلام کا جواب اس قدر آواز سے دینا ضروری ہے کہ سلام کرنے والا سن لے۔ اور اگر اس قدر آہستہ جواب دیا گیا کہ سلام کرنے والے نے نہیں سنا تو جواب ادا نہیں ہوگا۔



وشرط في الرد وجواب العطاس إسماعہ، فلو أصم یریہ تحریک شفتیہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل في البیع وغیرہ، ۹: ۵۹۲، ۵۹۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند نقلاً عن الخانیة)، قال في شرع الشرعة: واعلم أنھم کما قالوا: إن السلام سنة وإسماعہ مستحب، وجوابہ أي: ردہ فرض کفایة، وإسماع ردہ واجب بحیث لو لم یسمعہ لا یسقط ھذا الفرض عن السامع، حتی قیل: لو کان المسلم أصم یجب علی الراد أن یحرک شفتیہ ویریہ بحیث لو لم یکن أصم لسمعہ اھ (رد المحتار، ۹: ۵۹۳)۔



(۲): امام ابوداود کا واقعہ آپ نے جس کتاب میں پڑھا ہے، براہ کرم! اس کا حوالہ تحریر فرماکر سوال کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات