معاشرت - اخلاق و آداب

India

سوال # 167625

کیا فرتاتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہاتھ پیرکی انگلیاں چٹخانہ ( یعنی پھوڑنا ) کیسا ہے اور خاص طور پر جو لوگ مسجد میں زیادہ انگلی چٹخاتے ہیں ایسا کرنا شرعی طورپر کیسا ہے ؟

Published on: Jan 24, 2019

جواب # 167625

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:400-51T/sn=5/1440



 جو شخص نماز میں ہو یا مسجدمیں بیٹھ کر نماز کا انتظار کر رہا ہو اس کے لئے انگلیاں چٹخانا شرعا مکروہ تحریمی ہے، بلکہ جو شخص نماز میں نہ ہو اور نہ ہی نماز کے انتظار میں ہو اس کے لئے بھی انگلیاں چٹخانا اچھا نہیں ہے ، یہ حکم مسجد اور مسجد سے باہر ہر جگہ کے لئے ہے ۔ البحرالرائق(۲/۳۵)،ط: زکریا) میں ہے :



 (قولہ وفرقعة الأصابع) وہو غمزہا أو مدہا حتی تصوت ونقل فی الدرایة الإجماع علی کراہتہا فیہا، ومن السنة ما رواہ ابن ماجہ مرفوعا :لا تفرقع أصابعک وأنت تصلی؛لکنہ معلول بالحارث.وروی أحمد عن سہل بن معاذ رفعہ: الضاحک فی الصلاة والملتفت والمفرقع أصابعہ بمنزلة واحدة، ولعل المراد التساوی فی المعصیة وإلا فالضحک مبطل لہا، وینبغی أن تکون کراہة الفرقعة تحریمیة للنہی الوارد فی ذلک، ولأنہا من أفراد العبث ”بخلاف الفرقعة خارج الصلاة لغیرحاجة ولو لإراحة المفاصل فإنہا تنزیہیة علی القول بالکراہة کما فی المجتبی أنہ کرہہا کثیر من الناس ؛لأنہا من الشیطان بالحدیث.لکن لما لم یکن فیہا خارجہا نہی لم تکن تحریمیة کما أسلفناہ قریبا“ وألحق فی المجتبی المنتظر للصلاة والماشی إلیہا بمن فی الصلاة فی کراہتہا وروی فی ذلک حدیثا أنہ نہی أن یفرقع الرجل أصابعہ وہو جالس فی المسجد ینتظر الصلاة وفی روایة وہو یمشی إلیہا.(البحر)



 (قولہ لإراحة المفاصل) المتبادرأنہ تعمیم للحاجة وأصرح مما ہنا ما فی شرح المقدسی حیث قال إلا لغرض کإراحة المفاصل ویقرب منہ ما یأتی قریبا عن الحلبی (قولہ وقد قدمنا عن الہدایة إلخ) قال فی النہر وأنت قد علمت أن ما فی الہدایة غیر مسلم اہ أی بما مر عن غایة السروجی (منحة الخالق)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات