معاملات - حدود و قصاص

Pakistan

سوال # 6664

پچھلے دنوں آج ٹی وی پر ایک دینی پروگرام جس کا نام سفر ہدایت ہے سنا۔ اس میں ایک عالم صاحب ، ایک مرتدکے بارے میں (جواسلام لانے کے بعدپھر جائے)ایک بحث کررہے تھے۔ ان کے کہنے کے مطابق مرتد کو قتل کرنا واجب یا جائز نہیں، اور اس پر انھوں نے یہ دلیل دی کہ اس وقت کا اسلام جو ہے وہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہے اور ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کس کے فرقے کا دین 100فیصد اس وقت کے اسلام سے ملتا ہے جو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا۔ جب کہ میں بچپن سے یہی سنتے آرہا ہوں کہ مرتد کو مارنا واجب اور فرض ہے۔ آپ اس بارے میں رہنمائی کریں۔

Published on: Aug 25, 2008

جواب # 6664

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1333=1250/ د


 


ارتداد کی وجہ سے فوراً قتل کرنے کا حکم نہیں ہے بلکہ اس کو تین روز قید رکھا جائے گا اور اس کے شبہات کا ازالہ کیا جائے گا، جب شبہات کے ازالہ کے بعد بھی ارتداد پر قائم رہے، اور اس کے اسلام کی امید نہ ہو تو حاکم مسلمین کے ذمہ اس کا قتل کرنا ہے، قال في الد من ارتد عرض الحاکم علیہ الإسلام وتکشف شبھتہ ویحبس ثلاثة أیام إن استمھل وإلا قتلہ من ساعتہ إلا إذا رجي إسلامہ (شامي: ج۳ ص۳۱۳)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات