معاملات - حدود و قصاص

India

سوال # 165634

اگر کوئی شخص کسی کا خون کر دے اور ان کے گھر والوں سے مل کر صلح کر لے اور ان کو قصاص دے دے تو جائز ہو گا؟یا پھر یہ کام اسلامی حکومت کا ہے اور جائز ہوگا تو قصاص کی رقم کیسے مقرر کی جائے گی غیراسلامی ریاست اگراس پر کوئی جرمانہ ڈالے تو کیا وہ قصاص میں مانا جا سکتا ہے ؟

Published on: Oct 25, 2018

جواب # 165634

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 144-92/B=2/1440



مذہب اسلام میں تو قتل کی سزا قتل ہی ہے جس کو قصاص کہتے ہیں۔ لیکن اگر مقتول کے ورثہ قتل کی سزا سے ہٹ کر خون بہا یعنی دیت پر راضی ہو جائیں یعنی دیت میں ایک ہزار دینار (اشرفی) یا دس ہزار درہم پر راضی ہو جائیں تو اس کی بھی گنجائش ہے اس سے قتل کی سزا معاف ہو جائے گی، اور دیت دینا واجب ہوگا۔ مگر یہ سارے امور اسلامی حکومت اور شرعی قاضی سے متعلق ہیں۔ ہم عام آدمیوں کو اس کے اختیارات حاصل نہیں۔ غیر اسلامی حکومت میں کسی نے اپنے نجی طور پر معاملہ کرلیا اور کچھ معاوضہ لے دے کر معاملہ کو رفع دفع کرلیا تو اس کی گنجائش ہے مقتول کے ورثہ کی کفالت میں شرعی حصص کے تناسب سے وہ رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات