معاملات - حدود و قصاص

India

سوال # 164755

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ فقہی کتابوں میں قتل عمد اور قتل شبہ عمد کی تعریفات میں ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور صاحبین رحمہما اللہ کے مابین اختلاف ہے ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ قتل عمد کی تعریف میں ہتھیار اور الہ کا اعتبارکرتے ہیں اور صاحبین فاعل کے فعل اور ارادے کا اعتبار کرتے لہذا اس صورت میں آج کے زمانے میں فتوی کس کے قول پر ہے ابو حنیفہ کے قول پر یا صاحبین کے قول پر۔نیز ملکی قانون بناتے وقت کس کے قانون کا اعتبار کیا جائے گا اور دوسرا سوال یہ ہے کہ آج کے موجودہ دور میں زہردے کر ہلاک کرنا یا زہر کا انجکشن لگانا یا یاقتل بالمثقل یا چلتی ٹرین سے دھکا دے کر گرا دینا کس قتل میں شمار ہوگا قتل عمد میں یا قتل شبہ عمد میں۔مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کا جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

Published on: Sep 23, 2018

جواب # 164755

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1382-1326/M=1/1440



آپ کے سامنے قتل عمد اور قتل شبہ عمد کی تعریف میں کونسی اختلافی عبار ت ہے بعینہوہ عبارت مع مکمل حوالہ لکھیں تاکہ اس کی مراجعت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکے، اور کس ملک میں قانون بنانے کی ضرورت درپیش ہے؟ نیز کسی کو زہر دے کر مارنے کی تفصیل اور قتل بالمثقل کی صورت بھی واضح طور پر لکھ کر سوال کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات