متفرقات - دیگر

India

سوال # 2157

گذشتہ دنوں انڈیا کی سپریم کورٹ نے گورنمنٹ کو مشورہ دیا تھا کہ کسی جمہوری ملک میں کوئی متوازی نظام نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن دارالعلوم دیوبند اب بھی فتوی جاری کرتا ہے، کیا ایسا کرنا درست ہے؟ کیا دارالعلوم سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کررہا ہے۔

Published on: Sep 2, 2007

جواب # 2157

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى:  1232/هـ = 955/هـ)


 


برطانیہ میں بیٹھ کر جناب کو ہندوستان سے متعلق درد وغم معلوم نہیں کیوں ستارہا ہے، ہندوستان میں بے شمار مذاہب کے ماننے والے لوگ آباد ہیں اور ہرمذہب والے عوام اپنے اپنے مذہبی امور کو اپنے اپنے مذہبی رہنماوٴں کی رہنمائی میں انجام دیتے ہیں اور اس کو اوپر سے نیچے تک کوئی متوازی نظام نہیں سمجھتا دارالافتاء سے فتویٰ جاری ہونا بھی متوازی نظام نہیں، متوازی نظام کا مطلب تو مداخلت و مقابلہ ہے اور فتویٰ میں دور دور تک اس کا تصور نہیں، مثلاً ایک شخص حج کرنے گیا اس سے چند غلطیاں ہوگئیں وہ دارالافتاء میں آکر ان غلطیوں سے متعلق مسائل معلوم کرتا ہے، دارالافتاء اس کو وہ مسائل بتلادیتا ہے اس میں کیا متوازی نظام ہوگیا، یا کوئی نمازی معلوم کرے کہ میں نماز کس طرح ادا کیا کروں دارالافتاء سے نماز کا طریقہ بتلادیا، اس میں متوازی نظام کیا ہوگیا؟ آپ کو غالباً ہندوستان سے متعلق حالات کا علم نہیں، یہاں دستورِ ہند نے ہندوستان میں ٹمام بسنے والوں کو دستور میں مذہبی آزادی دے رکھی ہے ارو یہ ظاہر ہے کہ ہرشخص اپنے مذہب پر عمل کے لیے اپنے مذہبی علماء کی طرف مراجعت کرے گا، پس مسلمانوں کا اور دیگر مذاہب والوں کا اپنے علماء اور دارالافتاء کی طرف رجوع کرنا اور مذہبی علماء کا مذہبی باتوں کی طرف رہنمائی کرنا دستور ہند کے عین مطابق ہے۔ امید ہے کہ آپ کو اب کچھ اشکال نہ رہے گا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات