متفرقات - دیگر

india

سوال # 174909

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں زید جو کی ایک چور تھا اس نے بالغ ہونے سے پہلے اور کچھ بالغ ہونے کے بعد بہت سی چوریاں کی تھی لیکن اللہ نے اسے ہدایت دی تو اب اس نے توبہ کر لی اللہ نے گر چہ اسے معاف کر دیا ہو لیکن جن حضرات کے یہاں اس نے چوری کی شاید ان کے حق زید کے ذمہ باقی ہوں اور کچھ چوریاں اسے یاد بھی ہے کہ میں نے کہاں کہاں چوری کی ہیں اور کچھ یاد بھی نہیں ہیں اگر زید ان حضرات کے پاس جاکر اپنی چوری کا اظہار کرے تو بڑی دقت کی بات ہو جائے گی کیونکہ ۱۔۔ وہ غریب ہیں اور ۲۔۔بدنامی اور مار پیٹ اور پولیس کا ڈر زیادہ تر اس نے چوریاں لوہا کا سامان، نقد پیسے، اور اپنے گھر میں بھی بہت کی ہے اور اسکے پاس کچھ بھی موجودنہیں ہیں لوہا جو کی اس فوراً کباڑی کو بیچ دی ہیں اور پیسے اس نے خرچ کر دئے ہیں مسجد اور مدرسہ میں سے بھی زیادہ تر نقد پیسے بھی چرائے ہیں اور مسجد میں سے پنکھے لوہا وغیرہ اور اسی طرح مدرسہ میں سے بھی پنکھے وغیرہ لوہا اور پڑھنے والے بچوں کا بھی کچھ سامان چوری کیا زید اب بہت بہت شرمندہ ہیں کہ زید ان حضرات کا حق کیسے ادا کریں لیکن زید بہت غریب ہے اور دوسری بات اسنے قران حفظ شروع کر دیا ہے وہ کام بھی نہیں کرتا ہے اسکے پاس ان سب حضرات کا سامان یا مال اور مسجد سے چوری کیا ہوا مال واپس کرنے کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہے کیونکہ چوریاں اس نے بہت ہی زیادہ تعداد میں کی ہیں مفتیان کرام میری رہنمائی فرمائے اور اللہ سے میرے لئے دعا بھی فرمائے اللہ اپ اس کی جزائے خیر عطا فرمائے۔

Published on: Dec 1, 2019

جواب # 174909

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 377-48T/B=03/1441



زید کو چاہئے کہ کثرت سے توبہ و استغفار کرے اور پختہ ارادہ کرے کہ میں نے جن جن لوگوں کا مال چرایا ہے ا س کو ادا کروں گا اور اللہ تعالی سے ادائیگی کی توفیق اور اس کے اسباب کی برابر دعا بھی کرتا رہے۔ حفظ سے فراغت کے بعد جب کوئی کام شروع کرے تو اپنی آمدنی میں سے تھوڑا تھوڑا پسماندہ کرکے حقوق کی ادائیگی میں صرف کرے۔ اگر اصل مالک کو پہونچانے میں مار پیٹ ، تھانہ پولیس اور جیل جانے کا خطرہ ہو تو اس مالک کی طرف سے غریبوں کو صدقہ کردے، امید ہے کہ اللہ کے یہاں بری الذمہ ہو جائے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات