متفرقات - دیگر

Pakistan

سوال # 168485

درجہ ذیل فتوی نمبر 1 کی روشنی میں فتوی نمبر 2 اور فتوی نمبر 3 میں موجود تضاد کے حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: تنظیم فکر ولی اللہ 2008 سے پہلے بھی موجود تھی۔ 1۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم Fatwa: 771-735/B=8/1438 یہ مصیبت اپنے ہی اہل مدارس نے پیدا کر رکھی ہے کہ افتاء کے اہل ہوں یا نااہل ہوں، ان کو ا فتاء کی تعلیم برائے نام دے کر انھیں مفتی بنادیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ غلط صحیح ہرقسم کے فتوے یئے جارہے ہیں، اور عوام کی گمراہی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اس مصیت کا علاج یہ ہے کہ جب دوفتوے ٹکرائیں تو سب سے زیادہ جو پرانے تجربہ کار ماہر اور متقی مفتی ہوں تو ان کے فتوے پر عمل کرنا چاہیے ۔
2۔ پاکستان میں مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری صاحب جو ہیں کیا ان کا سلسلہ شاہ عبد الرحیم رائے پوری سے ہے ؟ یہاں مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری صا حب شاہ ولی اللہ اور ان کے سلسلے سے اچھاکام کررہے ہیں۔ براہ کرم، اپنی رائے بتائیں۔ Published on: Jun 19, 2008
جواب # 4083 بسم اللہ الرحمن الرحیم فتوی: 769=635/ ب شاہ سعید احمد رائے پوری صاحب، شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوری کے خلیفہ ہیں، اور وہ حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری نور اللہ مرقدہ کے خلیفہ ہیں۔ لہٰذا مولانا سعید احمد صاحب کا سلسلہ بواسطہ شاہ عبدالقادر صاحب مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب سے ہی ہے ۔ الحمد اللہ انھیں اللہ نے کافی مقبولیت عطا فرمائی ہے ، ان سے اصلاح او رتزکیہ نفس میں فائدہ اٹھانا چاہیے ۔
3۔ حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ ،یہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ دیوبندی نہیں ہیں۔ آپ اور آپ کی جماعت تنظیم فکر شاہ ولی اللہ گمراہ ہے ۔ آپ اپنے شیخ شاہ عبد القادررائے پوری کے نظریات سے منحرف ہو گیے ہیں۔ براہ کرم، اس پر روشنی ڈالیں۔ Published on: Mar 21, 2012 جواب # 37692 بسم اللہ الرحمن الرحیم فتوی: 518-439/B=4/1433 شاہ سعید احمد رائے پوری بذات خود بہت نیک وصالح اور اللہ والے آدمی ہیں، مگر کچھ دنوں سے اپنے داماد مولانا عبدالقادر صاحب کے چکر میں آگئے اور ایک نئی تنظیم فکر ولی اللہ قائم کی جس میں حضرت مولانا عبید اللہ سندھی کے کچھ کمیونسٹانہ نظریات پر مشتمل نوجوانوں کی نئی جماعت تیار کررہے ہیں، ہماری سمجھ میں ان کی یہ فکر ولی اللہ نہیں آئی۔

Published on: Feb 10, 2019

جواب # 168485

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 715-85T/B=06/1440



نمبر: ۲/ اور ۳/ دونوں فتوے احقر کے ہی لکھے ہوئے ہیں۔



نمبر: ۲/ فتوی پہلے کا اور نمبر ۳/ بعد کا لکھا ہوا ہے۔ احقر اپنی نااہلیت کا پہلے بھی معترف رہا اور اب بھی معترف ہے۔



نمبر: ۳/ فتوی لکھنے کے بعد حضرت مولانا سعید احمد صاحب رحمہ اللہ سے رائے پور کی خانقاہ میں ملاقات ہوئی۔ تو انہوں نے میرے فتوے پر ناگواری کا اظہار فرمایا میں نے جواب میں عرض کیا حضرت! اتنی دُور رہ کر جس قدر معلومات کرسکا۔ معلومات کرنے کے بعد ہی لکھا ہے۔ اگر کوئی بات خلاف واقعہ لکھی ہے تو آپ اپنی تنظیم فکر ولی الٰہی کے اصول و مقاصد اور طریقہ کار سے متعلق مطبوعہ تفصیلات عنایت فرمائیں تو پھر دوبارہ غور کرکے جواب لکھ دوں گا۔ مگر ان کے یہاں سے کوئی پمفلٹ میرے پاس نہیں آیا۔ بعد میں یہ سننے میں آیا کہ حضرت مولانا سعید صاحب بذات خود حضرت مہتمم مولانا مرغوب الرحمن سے تفصیلی حالات بتاکر ان سے کچھ لکھواکر لے گئے تھے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات