متفرقات - دیگر

India

سوال # 167634

ہمارے یہاں علماء کہ رہے ہیں کہ تبلیغ والے مجالس میں جو بات کرے ہیں ان کا بات کرنا اور بیان کرنا درست نہیں ہے ، غیر عالم کے بات کرنے سے اور بیان کرنے سے دین میں تحریف کا اندیشہ ہے ۔ یہاں تک کہ غیر عالم چھ نمبر کے دائرے میں بھی بات نہ کرے ۔ بلکہ بات کرنے کے موقعے پر صرف فضائل اعمال ، منتخب احادیث اور فضائل صدقات کی تعلیم کرے ۔ مجالس کو چھوڑ کر ملاقاتوں میں بات کرنے کی اجازت ہے ۔ اگر کتاب پڑھنی نہیں آتی تو پہلے علم دین اتنا سیکھ لے جس سے کتاب دیکھ کر پڑھ سکے ۔ اور کہا جا رہا ہے کہ مجالس میں بیان اور بات صرف علماء ہی کریں گے چاہے وہ چھ نمبر ہو یا یا کوئی اور بات ہو ۔ کیا یہ باتیں درست ہیں؟ شریعت کی روشنی میں بیان فرمائیں ۔

Published on: Jan 9, 2019

جواب # 167634

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 554-437/B=05/1440



جو شخص عالم نہیں اسے وعظ وتقریر کرنا درست نہیں۔ وعظ اور تقریر میں اکثر قرآن کی آیت یا کسی حدیث کا مفہوم بیان کرنا ہوتا ہے، غیر عالم اس کا صحیح مفہوم نہیں بیان کرسکتا۔ قرآن اور حدیث میں تحریف کا اندیشہ ہے اس لئے غیر عالم کوئی کتاب معتبر عالم کی لکھی ہوئی سنا دیا کرے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات