عبادات - قسم و نذر

Pakistan

سوال # 59782

قرآن خوانی کے بارے میں آپ کے فتویٰ جات میں نے دیکھے ہیں،آپ نے ان کی کراھت کا ذکر کیا ہے اور ساتھ ہی اسے مکروہ قرار دیا ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا قرآن خوانی بدعت نہیں ہے ؟ کیوں کہ اس کا ثبوت نہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے ملتا ہے ،نہ صحابہ سے ، نہ ہی تابعین سے اور نہ ہی تابعین سے ، اسے شروع ہوئے کچھ سال ہی ہیں، تقریباً 200 یا 250 سال۔ برائے مہربانی اس میں رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jun 3, 2015

جواب # 59782

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 863-680/D=8/1436-U

قرآن خوانی میں مروجہ رسوم کا التزام کرنا دعوت اور کھانے کا اہتمام کرنا بدعت ہے۔
بعض رسوم کے اعتبار سے اسے مکروہ بھی کہہ سکتے ہیں جیسا کہ فقہاء نے لکھا ہے اور بعض رسوم کے اعتبار سے یہ بدعت میں داخل ہے، جیسا کہ فقہاء نے اس کی بھی تصریح کی ہے۔
ویکرہ اتخاذ الطعام من أہل المیت لأنہ شرع في السرور لا في الشرور وہي بدعة قبیحة․ (شامي: ۱/۶۶۴)
ورنہ قرآن پڑھ کر ایصالِ ثواب کردینا جس میں رسوم مروجہ کا التزام نہ ہو جائز ہے بلکہ احادیث سے ثابت ہے، قال الہندیة: یستحب عند زیارة القبور قراء ة سورة الإخلاص فإنہ بلغنی من قرأہا سبع مرات إن کان ذلک المیت غیر مغفور لہ یغفر لہ وإن کان مغفورا لہ غفر لہذا القاری ووہب ثوابہ للمیت․ (۵/۳۵۰ ہندیہ) قال الشامي: یقرأ سورة یٰس لما ورد من دخل المقابر فقرأ سورة یٰس خفف اللہ عنہم یومئذ وکان لہ بعد دفن فیہا حسنات․ (شامي: ۱/۶۶۶) وعن أنس رضي اللہ عنہ یرفعہ من دخل المقابر فقرأ یٰسن خفف اللہ عنہم یومئذ ومن زار قبر والدیہ أو أحدہما فقرأ عندہ أو عندہما یٰس غفر لہ․ (عمدة القاري: ۱/۸۷۵)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات