عبادات - قسم و نذر

Pakistan

سوال # 58468

زید نے ایک بکرا لیا اور نیت کی کہ اس کو اللہ کی راہ میں قربان کرونگا لیکن پھر اس نے اپنے دوستوں کی دعوت میں اس کو قربان کر دیا۔اب اس کے لئے کیا حکم ہے کہ آیا وہ نیا بکرا خرید کر قربان کرے یا توبہ استغفار یا کوئی کفارہ؟
اور قسم توڑنے کا کفارہ بھی بیان کر دیں

Published on: Apr 2, 2015

جواب # 58468

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 320-285/Sn=6/1436-U

کسی جانور سے متعلق محض قربانی کی نیت سے اس کی قربانی واجب نہیں ہوئی؛ بلکہ صیغہٴ لزوم کے ساتھ زبان سے کہہ کر اپنے اوپر قربانی لازم کرنے سے قربانی لازم ہوتی ہے؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر آپ نے صرف ارداہ کیا تھا، زبان سے کہہ کر آپ نے باقاعدہ اپنے اوپر قربانی کو لازم نہیں کیا تھا تو دوستوں کی دعوت میں اس بکرے کو ذبح کرنا آپ کے لیے شرعاً مباح تھا؛ لہٰذا اس کی وجہ سے نہ تو آپ پر کفارہ وغیرہ لازم ہے اور نہ ہی اس کی جگہ پر دوسرے بکرے کی قربانی، باقی آپ دوسرا بکرا خریدکر قربانی کردیں تو بہتر ہے۔ فرکن النذر ہو الصیغة الدالة علیہ وہو قولہ للہ عز شأنہ علي کذا، أو عليّ کذا الخ (بدائع ا لصنائع: ۴/۲۲۶، ط: مکتبہ زکریا)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات