عبادات - قسم و نذر

Pakistan

سوال # 168635

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کفارے میں اگر حانث شخص مسکینوں کو کھانا کھلانا چاہے (کیونکہ کفارہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا ہے ) اگر کوئی ایک ہی وقت میں بیس مساکین کو کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کی دو وقت کے کھانے کے پیسے دیدے تو بری ہوجائے گا ؟

Published on: Mar 6, 2019

جواب # 168635

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:631-570/L=6/1440



کفارہٴ قسم میں دس مسکینوں کو دونوں وقت کھلانا ضروری ہے؛ اس لیے اگر بیس مسکینوں کو ایک وقت میں یا دس میکینوں کو ایک وقت اور دوسرے دس مسکینوں کو دوسرے وقت میں کھلایا جائے تو کفارہ ادا نہ ہوگا؛ البتہ اگر دس مسکینوں کو دونوں وقت کے کھانے کی قیمت دیدی جائے تو کفارہ ادا ہوجائے گا۔



وإذا غدی مسیکنان وعشی غیرہ عشرة أیام لم یجزہ لأنہ فرق طعام العشرة علی عشرین، کما إذا فرق حصة المسکین علی مسکینین (رد المحتار: ۵/ ۵۰۳، کتاب الأیمان، ط: زکریا دیوبند) وفي التاتارخانیة: وفي الحجة: ولو أعطی عشرین منا خبزًا عشرین نفرًا لا یجوز، ویجوز دفع القیم․ (الفتاوی التاتارخانیة: ۶/ ۳۰۳، کتاب الأیمان، الکفارة)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات