عبادات - قسم و نذر

United Arab Emirates

سوال # 167362

اگر کوئی یہ کہیں کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں اگر میں نے یہ گناہ دوبارہ کیا تو خود کو ہی مار دوں گا ، پھر کچھ عرصہ بعد شیطان اس سے دوبارہ وہی گناہ سرزد کر دیتا ہے ۔اب اس بندے کو کرنا چاہئے قسم جو کھائی ہے یا اللہ معاف کر دے گا؟

Published on: Jan 12, 2019

جواب # 167362

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:406-411/L=5/1440



صورتِ مسئولہ میں آپ کی زبان سے نکلنے والا جملہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں الخ سے قسم منعقد ہوگئی،خلاف کرنے کی صورت میں کفارہ لازم ہے، اورقسم کاکفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھرکر کھانا کھلایا جائے یا دس مسکینوں کو کپڑا دیا جائے ، اگر ان میں سے کسی پر قدرت نہیں ہے تو لگاتار تین روزے رکھنا ضروری ہے ۔واضح رہے کہ خودکشی شرعاً معصیت اور گناہ کبیرہ ہے اور ناجائز وگناہ کے کام کو انجام دینے کی قسم کھانا شرعاً جائز نہیں ؛لہذا آپ اس طرح کی قسم کھانے کی وجہ سے توبہ واستغفار بھی کرلیں۔



والنذر بالمعصیة کقولہ:للہ علیّ أن أقتل فلاناً یمین یلزمہ الکفارة (الفتاوی البزازیة :10/176، ط:اتحاد) ولمزید من التفصیل راجع الہندیة :(2/71ط:اتحاد)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات