عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 164271

حضرت، میری عمر ۲۶/ سال ہے ۔ مجھے بچپن سے ہی مشت زنی اور فحش ویڈیو دیکھنے کی عادت ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے میں نے چھوڑ دی ہے۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ مشت زنی چھوڑنے کے لئے میں نے بہت قسمیں کھائیں ہیں۔ اللہ کی قسم، قرآن کی قسم اور بھی بہت ساری قسمیں کھائیں پر مشت زنی نہیں چھوڑ پارہا تھا۔ میں نے لاکھوں قسمیں توڑیں ہوں گی۔ قسم کا کفارہ تو پتا ہے پر اتنی قسموں کے لئے ادا کیسے کروں؟ ہزاروں بار تو میں نے یہ قسم کھائی ہے کہ اللہ کی قسم اگر مشت زنی یا فحش ویڈیو دیکھوں تو اپنے ماں باپ کا مرا ہوا منہ دیکھوں۔ اور کئی بار اس طرح سے بھی قسمیں کھائیں کہ اگر اب مشت زنی کی تو اپنے گھر والوں کے ساتھ زنا کروں گا یعنی اپنی امی اور بہن کے ساتھ، اور پھر قسم ٹوٹ گئی اور مشت زنی ہوگئی۔ کئی بار یہ بھی کھائی کہ اگر مشت زنی کی تو اپنی ہونے والی بیوی کے ساتھ زنا کروں گا۔ میری ابھی تک شادی نہیں ہوئی ہے۔
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میں نے جو بھی جس کے ساتھ بھی بولا کہ زنا کروں گا تو کیا قسم ٹوٹنے پر زنا کرنا پڑے گا؟ براہ کرم، تفصیل سے بتائیں۔
اور میں لاکھوں قسموں کا کفارہ کیسے ادا کروں؟ اگر انسان کفارہ ادا نہ کرے تو کیا زنا کرنا ضروری ہے؟ براہ کرم، تسلی بخش جواب دیں۔ میں زنا نہیں کر سکتا چاہے مجھے اللہ جو بھی سزا دے۔ آپ ہی بتائیں کیا توبہ سے سب ٹھیک ہو جائے گا اور زنا بھی نہ کرنا پڑے؟

Published on: Sep 27, 2018

جواب # 164271

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1498-1372/L=1/1440



آپ نے جو بار بار مشت زنی اورفحش ویڈیو سے رکنے پر قرآن کریم کی جو بے شمار قسمیں کھائی ہیں ان سب کی طرف سے ایک ہی کفارہ دینا کافی ہے علیحدہ علیحدہ دینے کی ضرورت نہیں۔ اور کفارہ قسم یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے یا دس مسکینوں کو دس جوڑے کپڑے دیئے جائیں اور اگر یہ نہ ہوسکے تو تین دن متواتر روزے رکھے جائیں جہاں تک مسئلہ ہے ماں یا بہن کے ساتھ زنا کرنے کی قسم کھانے کا تو اس طرح قسم کھانے سے قسم منعقد نہ ہوئی لہٰذا کفارہ بھی لازم نہ ہوگا مگر اس طر ح کے بیہودہ کلمات سے اجتناب ضروری ہے اسی طرح اپنے ماں باپ کا مرا ہوا چہرہ دیکھنے کی قسم کھانے سے بھی قسم منعقد نہ ہوئی لہٰذا ایسی قسموں کا کفارہ بھی لازم نہ ہوگا ۔ وفی البغیة: کفارات الأیمان إذا کثرت تداخلت ویخرج بالکفارة الواحدة عن عہدة الجمیع وقال شہاب الأئمة: ہذا قول محمد قال صاحب الأصل : ہو المختار عندی اھ مقدسی (رد المختار: ۵/۴۸۶، زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات