عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 162598

حضرت، مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ جو نذر اللہ کا بکرا ہوتا ہے کیا اس میں کا کچھ حصہ کرنے والا خود بھی کھا سکتا ہے؟ یا اس کے گھر والے یانہیں؟ یا پھر سارا غریبوں میں تقسیم کرنا ہوتا ہے؟ کیونکہ وہ تو اللہ کے نام پر ہوتا ہے اور اللہ کے نام سے تو سب کے لئے جائز ہے۔
ذرا اس سلسلے میں وضاحت کردیں ۔ جزاک اللہ خیر

Published on: Jul 17, 2018

جواب # 162598

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1311-1166/L=11/1439



نذر کا بکرا خود ناذر اور اس کے اصول فروع یا مالدار کے لیے کھانا جائز نہیں۔ قال العلامة الشامي : قولہ ویأکل من لحم الأضحیة : ہذا في الأضحیة الواجبة والسنة سواء، إذا لم تکن واجبة بالنذر، وإن وجبت بہ فلا یأکل منہا شیئاً ولا یطعم غنیاً، سواء کان الناذر غنیاً أو فقیراً؛ لأن سبیلہا التصدق ولیس للمتصدق ذلک، ولو أکل فعلیہ قیمة ما أکل، زیلعی۔ (شامي: ۹/۴۷۳ط: زکریا)



 وہو مصرف أیضاً لصدقة الفطر والکفارة والنذر وغیر ذٰلک من الصدقات الواجبة۔ (شامي: ۳/۲۸۳ط: زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات