عبادات - قسم و نذر

Pakistan

سوال # 161031

حضرت، میں اپنے والد صاحب کی زمین میں گھر بنا رہا ہوں، ابھی بنیاد رکھی ہے، مطلب تعمیر کا ابتدائی حصہ بن چکا ہے۔ جس پلاٹ میں میں گھر تعمیر کر رہا ہوں اسی زمین میں میرے ساتھ میرا بھائی بھی گھر بنا رہا ہے اور بھائی کا گھر راستہ سے منسلک ہے، اور میرا راستہ میرے بھائی کے گھر سے ہو کر گذرتا ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ فیملی والوں سے میں نے ۹/ فٹ راستہ کا مطالبہ کیا ہے اور وہ کم ہے تو میں نے قرآن کی کئی دفعہ قسم کھائی، مطلب ایک ہی دفعہ ایسے الفاظ کہے: میرا قرآن پہ بار بار قسم کہ اگر ۹/ فٹ سے کم راستہ ہو تو میں گھر مزید نہیں بنواوٴں گا، اور یہ الفاظ بھی کہے کہ میں مسلمان نہیں ہوں گا کہ اگر راستہ ۹/ فٹ سے کم ہو تو میں یہ گھر نہیں بنواوٴں گا۔
برائے مہربانی، مجبوری کی حالت میں مجھ پر کیا شرعی حکم لاگو ہوگا؟ اور اگر مجبوری نہ ہو تو پھر کیا حکم ہوگا؟ اس قسم کو توڑ کر میں مسلمان رہوں گا؟ نیز اس کا کفارہ کیا ہے؟

Published on: Oct 17, 2018

جواب # 161031

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1011-1409/L=2/1440



آپ نے گھر والوں سے ۹/فٹ راستے کا مطالبہ کیا، ۹/فٹ نہ ملنے پر آپ نے جو یہ قسم کھائی کہ ”میرا قرآن پہ بار بار قسم “ کہ اگر میرا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تو میں مزید گھر نہیں بنواوٴں گا تو اس جملہ سے قسم منعقد ہوکر مزید گھر بنوانے کی صورت میں آپ حانث ہو جائیں گے جس کی وجہ سے آپ کے اوپر کفارہ لازم ہوگا جہاں تک مسئلہ مسلمان نہ رہنے کی قسم کھانے کا تو اس سے بھی قسم منعقد ہوگئی لیکن اس کی وجہ سے آپ کافر نہیں ہوئے البتہ ایسی بے ہودہ قسم کھانے سے احتراز کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ آپ کے اوپر دو کفارے لازم ہوں گے اور وہ یہ ہے کہ ہر قسم کے بدلے دس مسکینوں کوصبح و شام کھانا کھلایا جائے یا ان کے لئے اوسط درجے کے کپڑے بنوادیئے جائیں اوراگر اس کی استطاعت نہ ہو تو پھر تین دن کے روزے تواتر کے ساتھ رکھے جائیں ۔ وإن قال إن فعلت کذا فہو یہودی أو نصراني أو کافر یکون یمینا (ہدایہ: ۲/۴۶۱) ولا یقال أن من نوی الکفر فی المستقبل کفر فی الحال وہذا بمنزلة تعلیق الکفر بالشرط لأنا نقول أن من قال: إن فعلت کذا فأنا کافر مرادہ الامتناع بالتعلیق ومن عزمہ أن لا یفعل فلیس فیہ رضا بالکفر عند التعلیق (رد المحتار: ۳/ ۶، ط: زکریا دیوبند) وأما الکفر فالأصح أنہ لا یکفر إن کان عندہ فی اعتقادہ أنہ یمین وعلیہ کفارة الیمین (تنقیح الحامدیہ: ۱/۸۶، ط: حبیبہ کوئٹہ) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات