معاشرت - نکاح

Pakistan

سوال # 667

ایک لڑکی (ثمینہ) سے مجھے محبت ہے۔ میں نے اس لڑکی سے کلما کی قسم کھا کر کہا کہ اگر میں کسی اور لڑکی سے شادی کروں تواس لڑکی کو میری طرف سے طلاق ہوجائے گی۔لیکن اب میں ثمینہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایک دوسری لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ کیا میں کسی دوسری لڑکی سے شادی کرسکتا ہوں یا نہیں؟براہ کرم، وضاحت فرمائیں۔


والسلام

Published on: Jun 7, 2007

جواب # 667

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 153/د=154/د)


 


صورت مسئولہ میں آپ کسی اور لڑکی سے خود نکاح کریں گے یا آپ کا کوئی وکیل نکاح کرے گا فوراً طلاق واقع ہوجائے گی البتہ ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ کی اجازت کے بغیر کوئی اجنبی شخص آپ کا نکاح کرادے پھر جب اس نکاح کی خبر آپ کو پہنچی تو زبان سے اجازت نہ دیں ورنہ طلاق پڑجائے گی، سن کر بالکل خاموش رہیں تحریر ی اجازت دیدیں یامہر کل یا اس کا کچھ حصہ بیوی کی طرف بھیج دیں، بیوی کے پاس مہر بھیج دینے سے یا اپنے ہی پاس کسی کاغذ پر اس نکاح کی اجازت لکھ لینے سے نکاح نافذ اور صحیح ہوجائے گا اور منکوحہ آپ کی بیوی بن جائے گی اجنبی سے مراد وہ شخص ہے جو نہ آپ کا وکیل ہو نہ قاصد اور نہ ہی آپ نے اس کو اجازت دی ہو مطلب یہ کہ از خود یہ کام کردے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات