معاشرت - نکاح

INDIA

سوال # 172607

ایک عورت کو پھلے شوہر نے طلاق دیدی، اس عورت نے ایک مہینہ دس دن عدت کے گزارے پھر عدت توڑ دی ، اور جس شخص سے اس کا نکاح ثانی ہونا ہے اس شخص نے اس عورت کو الگ کرائے کے مکان میں رکھا ہے ، دونوں کے بیچ پردہ بھی نہیں ہے ، کیا اس عورت کا نکاح اس شخص سے جائز ہے ؟ اس عورت کے نکاح کی جائز ترتیب بتائیں۔

Published on: Aug 8, 2019

جواب # 172607

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1347-1118/H=12/1440



اُس نے عدت توڑ دی مگر شرعی اعتبار سے عدت ٹوٹی نہیں؛ البتہ احکام عدت پر عمل نہ کرنے کا گناہ ہوا اُس کو سچی پکی توبہ کرکے عدت کے احکام پر پھر عمل شروع کردینا چاہئے وقت طلاق سے تین ماہواریاں مکمل گذرنے پر عدت ختم ہوگی اگر طلاق کے وقت ماہواری تھی تو وہ محسوب نہ ہوگی بلکہ اس کے بعد آنے والی ماہواری پہلی ماہواری شمار ہوگی اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش پر عدت ختم ہوگی اور مکمل عدت گذرنے سے پہلے دوسرے شخص سے نکاح نہیں ہوسکتا زمانہٴ عدت میں نکاح کی بات چیت صاف صاف طے کرنا بھی حرام ہے جس شخص نے کرایہ پرمکان دیا ہے اس پر نیز عورت پر واجب ہے کہ بے پردگی بے تکلفی خلوت ہرگز اختیار نہ کریں یہ سب ناجائز و حرام ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات