معاشرت - نکاح

India

سوال # 168197

اگر کسی نے کہا کہ اگر اس نے نکاح کیا تو اس کی بیوی کو تین طلاق تو کیا طلاق ہوجاتی ہے؟ اگر ہوجاتی ہے تو اس کا حل کیا ہے؟

Published on: Feb 3, 2019

جواب # 168197

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:547-481/L=5/1440



صورتِ مسئولہ میں اگر وہ کسی لڑکی سے نکاح کرے گا تو اس پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی ؛البتہ اس صورت میں صرف ایک بار طلاق واقع ہوگی ایک بار طلاق واقع ہوجانے کے بعد اگر وہ کسی اور سے نکاح کرے گا تو اس پر طلاق واقع نہ ہوگی ،مذکورہ بالا صورت میں نکاح کا طریقہ یہ ہوسکتا ہے ایک بار کسی ایسی عورت سے معمولی مہر پر نکاح کرلیا جائے جس سے نکاح کرنا مقصود نہ ہو اور جب نکاح ہوتے ہی اس پر طلاق ہوجائے تو دوبارہ کسی اور لڑکی سے نکاح کردیا جائے ، اور اگر نکاح فضولی کے واسطہ سے ہوجائے یعنی ایک شخص جولڑکے کا ولی یا وکیل نہ ہو کسی لڑکی سے نکاح کردے اور لڑکا قولا اجازت دینے کے بجائے فعلاً اجازت دیدے مثلاً:مہر کا کچھ حصہ اس لڑکی کو بھیج دے تو اس صورت میں ابتداءً بھی طلاق واقع نہ ہوگی ؛البتہ یہ صورت کچھ نازک ہے اس لیے اس صورت کو اختیار کرنے سے پہلے کسی مفتی سے اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے ۔



 (قولہ وکذا کل امرأة) أی إذا قال: کل امرأة أتزوجہا طالق، والحیلة فیہ ما فی البحر من أنہ یزوجہ فضولی ویجیز بالفعل کسوق الواجب إلیہا أو یتزوجہا بعد ما وقع الطلاق علیہا لأن کلمة کل لا تقتضی التکرار. (رد المحتار:۴/۵۹۴،ط:زکریا دیوبند)



وینبغی أن یجیء إلی عالم ویقول لہ ما حلف واحتیاجہ إلی نکاح الفضولی فیزوجہ العالم امرأة ویجیز بالفعل فلا یحنث.(رد المحتار: ۴/۵۹۸، ط:زکریا دیوبند )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات